391

کسی کا دماغ بولتا ہے، کسی کا زبان اور کسی کا اخلاق

بولنا تو سب ہی کو آتا ہے. کسی کا دماغ کسی کی زبان اور کسی کا اخلاق بولتا ہے. جب بھی بولا جائے تو اخلاق سے بولا جائے. جوں جوں انتخابات کا وقت قریب ہوتا جارہا ہے تو سیاسی مداری مختلف بہانوں سے ملاقاتوں کا بہانہ بناکر سیاسی کارکنوں کے پاس جاکر اپنی دکان کو چمکانے میں مصروف ہوجاتے ہیں. سیاست میں ضمیر فروشی کھلے عام ہے. یہاں ضمیروں کو خریدنے والوں اور نہ فروخت کرنے والوں کی کوئی کمی ہے. اگر کوئی دیر ہے تو صرف قیمت لینے اور دینے کی ہے. یہ کام نیچے سے اوپر تک ہوتا ہے. نظریاتی کارکنان اپنی دن و رات کی محنت سے پارٹی کی آب یاری کرتے ہیں. اور ہر ایک کے گھر جاکر پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں. اکثر لوگ پارٹی میں شامل ہوتے ہوئے یہ الفاظ بار بار دھراتے ہیں کہ میں بغیر کسی لالچ کے پارٹی میں اعلان کررہا ہوں. میں پارٹی میں بحیثیت ورکر کام کرونگا. جو کارکنان کہینگے وہی کچھ کرونگا. لیکن کچھ ہی دنوں بعد وہ کہتا ہے جو کچھ میں کہونگا تو وہ ماننا پڑیگا ورنہ …….. اور اسطرح وہ بیچارہ کارکن پارٹی کو خیر آباد کہکر پھر کسی بنجر پارٹی یا نومولود پارٹی کا حصہ بن جاتا ہے. اور اسطرح اسکی پوری زندگی اس گرداب میں گزرجاتی ہے اور کسی دن مسجد کے لوڈسپکر سے اعلان ہوتا ہے کہ فلاں شخص کا فلاں جگہ اور فلاں وقت پر جنازہ ہے. ورکر کو دفنا دیا جاتاہے اور پھر تین دنوں تک اسکی اولاد کو اسکی غلامی کی داستانیں سنائی جاتی ہیں اور اسطرخ باپ کی جگہ اسکا بیٹا غلامی کی زندگی میں چکر لگانا شروع کر دیتا ہے. یہ ہے ہمارے ورکر کی زندگی. کیونکہ ہم نے شروع دن سے لیڈر بننے کا سوچا تک نہی ہوتا ہے. یہ الفاظ میں پاکستان کے ہر پارٹی کے کارکنوں کے لیے عمومی طور پر اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے لیے خصوصی طور پر کہ رہا ہوں. لیڈر بنو. اپنے اپکو بکاؤ مال نہ سمجھو. کہاں گیا ہمارا انصاف.انصاف تو یہ ہے کہ نظریاتی لوگوں کو ٹکٹ دیا جائے یعنی پی کے 77 کا ٹکٹ سجاد خان منڈنڑ کو ملنا چاہئے, پی کے 78 کا ٹکٹ فخر جھان باچہ یا معین باچہ کو ملنا چاہئے اور پی کے 79 کا ٹکٹ شیر خان بونیری کو ملنا چاہئے اور آخر میں این اے کا ٹکٹ بابائے پی ٹی آئی آمیرالامان خان کو دینا چاہئیے. اسطرخ ہم مطمن ہونگیں. انصافیو اگر انصاف نہ ملا تو الیکشن میں آذاد امیدوار کو ووٹ دو کیونکہ ہم نظریاتی لوگ ہیں کسی کے غلام نہی اگر غلامی ہی کرنی ہے تو اور بھی بہت ساری پارٹیاں ہیں. وہاں کر لینگے. کیونکہ شاطر امیدوار دماغ سے بولتا ہے اور ایماندا کارکن دل سے بولتاہے اور منافق کارکن زبان سے بولتا ہے. تحریر صوبیدار میجر بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری. سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی کلپانی بونیر خیبرپختونخواہ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں