345

پاکستان اور عدم برداشت

مسلمان ہونے کے ناطے سے پاکستانیوں اور مسلمانوں میں برداشت کا مادہ زیادہ ہونا چاہیے. میانہ روی ، رواداری، تحمل مزاجی ، ایک دوسرے کو برداشت کرنا، معاف کر دینا اور انصاف کرنا یہ وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں امن و چین کا دور دورہ ہوتا ہے۔ جن معاشروں میں ان خوبیوں کی کمی ہو تی ہے وہاں بے چینی ، شدت پسندی ، جارحانہ پن ، غصہ، تشدد، لاقانونیت اور بہت سی دیگر برائیاں جڑ پکڑ لیتی ہیں، معاشرے کا ہر فرد نفسا نفسی میں مبتلا نظر آتا ہے، یہ نفسانفسی معاشرے کی اجتماعی روح کے خلاف ہے اور اسے گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بھی عدم برداشت کے رجحان میں خوفناک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے افراد کی اکثریت کی قوت برداشت ختم ہو چکی ہے اور رواداری جیسی اعلی صفت معاشرے سے ختم ہو چکی ہے۔ ہر فرد دوسرے کو برداشت کرنے کے بجائے کھانے کو دوڑتا ہے، بے صبری ، بے چینی اور غصہ ہر کسی کے ماتھے پر دھرا دکھائی دیتا ہے۔ مذہب انسان کو اخلاق کا درس دیتا ہے، اس کے اندر ایسے اعلی اوصاف پیدا کرتا ہے کہ وہ بہترین انسان بنے اور معاشرے کے لئے مفید ثابت ہو. لیکن مسلمان ہونے کے ناطے سے ہم میں اس چیز کی کمی شدت سے پائی جاتی ہے خاص کر موجودہ سیاسی صورت خال میں. ہر پارٹی کا ورکر اور لیڈر ایک دوسرے کو برداشت نہی کرسکتے. تھوڑی سی بات پر آگ بگھولہ ہوجاتے ہیں. خاص کر فیس بک کی دنیا میں ہر تیسرا آدمی عدم برداشت کا شکارہے. براہ کرم ایک دوسرے کو برداشت کرنے ک عادت ڈالیں. تحریر صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری. سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی کلپانی بونیر خیبر پختونخواہ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں