338

کبھی خوشی کبھی غم ۔ بالی ووڈ کا مشہور فلم

ایک دفعہ انڈین فلم دیکھی تھی جسکا نام تھا “کبھی خوشی کبھی غم” نام تک تو بات ٹھیک ہے کہ دونوں کا ہونا قدرتی امر ہوتا ہے. لیکن اب تو خوشی کم اور غم ذیادہ یا پھر یوں کہدیں کہ سارے غم ہی غم اور پھر کبھی بہت عرصہ کے بعد خوشی. بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اج کل ملکی خالات جب دیکھتا ہوں تو واضخ پتا چلتا ہے کہ ہم فورتھ اور ففت جنریشن وار فیئر کے نرغے میں ہیں. کیونکہ پرانے زمانے کے جنگوں میں جسموں کو تسخیر کیا جاتاتھا لیکن آج کے دور کی جنگ میں جسموں کو تسخیر نہیں کیا جاتا بلکہ آپ کے اذہان کو تسخیر کیا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ آپ کی برین واشنگ کی جاتی ہے. علاقوں پر حکومت کرنے کی بجائے دماغوں پر حکومت کی جاتی ہے اور بیرونی طاقتیں آپ کے اذہان کو فتح کرنے کیلئے سب سے پہلے جو ہتھیار استعمال کرتی ہے وہ میڈیا ہے. اگر ہم دیکھیں تو ہر طرف افراتفری ہے. گریٹ پختونستان کی تیاری شروع ہے لیکن ہم لوگ ہاتھی کے کان میں سوئے ہوئے ہیں. ہم لوگوں سے مُراد عوام نہ کہ فوج. ماشاءاللہ ہماری افواج پاکستان اور ایجنسیاں اس جنگ سے مکمل با خبر ہے. لیکن عوام تک اس جنگ کے نقصانات کے بارے میں معلومات فراہم کرنا میڈیا کا کام ہے. گریٹ پختونستان پر کام شروع ہے لیکن عوام نا خبر. ہمیں تو اس وقت خبر ہوگی جب سب کچھ قابو سے باہر ہوجائے گا. براہ کرم پاکستان ہم سب کا ہے. یہاں سب لوگ ایک جیسے ہیں. اور اسکا ثبوت عمران خان اور زرداری نے چھوٹے صوبے سے چیئرمین سینٹ کو لانے کے عمل سے دیا ہے. پختونوں کا مسئلہ بھی خل ہونا چاہیئے تاکہ دشمن کو سمجھ آجائے کہ ہم مسئلے خود حل کرسکتے ہیں. عوام کو بھی آنکھیں کھلی رکھنی چاہیں. ک کونسی بات کے پیچھے کون ہے? اور کیوں ہے?

تحریر
صوبیدار میجر ریٹائرڈ
بخت روم شاہ تمغمہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں