334

پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے چوروں میں فرق

آج بمورخہ 26 مئی 2018 کو شام 6 بجے راولپنڈی فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال سے صدر کے لیے گاڑی میں بیٹھا. تھوڑی دیر سفر کرنے کے بعد گاڑی میں ایک عورت کے اُلٹیاں کرنے سے شور شرابہ شروع ہوگیا. پانچ منٹ تک یہی جھگڑا چلتا رہا. کنڈیکٹر یکدم اکڑ گیا کہ میں آگے نہی جاونگا سواریاں اپنا اپنا کرایہ واپس لیں. جناب کو بھی کرایہ واپس ملا اور اتاردیا گیا. اترنےکے کچھ ہی دیر کے بعد جیب میں ہاتھ ڈالا تو پتہ چلا کے بٹواہ سمیت قیمتی کاغذات موجود ہیں لیکن تین ہزار روپے عائب. پریشان تو ہوگیا لیکن جب یہ دیکھا کہ کاغذات موجود ہیں تو خوش ہوگیا کہ کم از کم چور ضرور کوئی گریجویٹ ہوگا. جس نے پیسے نکال کر بٹواہ واپس جیب میں رکھ دیا. شکریہ پنجاب کے چوروں کا.
ایسی طرخ ایک واقعہ میرے ساتھ اکتوبر 2015 میں شوہ اڈا صوابی (خیبرپختونواہ) کے مقام پر عمران خان کے جلسے میں ہوا تھا. لیکن اس ظالم نے ایک عدد ڈرائیونگ لائسنس کے علاوہ کچھ بھی واپس نہی کیا تھا. اس وقت کالوخان پولیس سٹیشن میں ایف آئی آر درج کروانے گیا تو وہاں ڈیوٹی پر موجود ڈی ایس پی نے کہا کہ پتہ نہی کس نے چوری کی ہوگی ہم ضرور تفتیش کرینگے. ساتھ یہ بھی کہا آج جبکہ جلسہ ہے تو پنجاب کے جیب کترے بھی آئے ہیں. اگر انھوں نے چوری کیا ہوگا تو پھر کچھ نہی ملےگا البتہ کے پی کے والے چوروں نے کیا ہوگا تو کاغذات ضرور ملیں گے وہ دن اور آج کا دن مجھے کاغذات میں ڈرائیونگ لائسنس کے علاوہ کچھ نہی ملا. تو آج یقین ہوگیا ہے کہ وہ پنجاب کا چور نہی تھا بلکہ کے پی کے کا تھا. ورنہ کم از کم بٹوہ تو واپس جیب میں رکھتا.
ایک دفعہ پھر پنجابی چور کا شکریہ ادا کرتا ہوں. کم از کم گریجویٹ تو ہوگا. اپکے عظمت کو سلام.
تحریر
صوبیدار میجر (ر) بختروم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخوا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں