338

سیاست اور تحریر میں بلوغت کی ضرورت

فیس بک ایجاد ہونے کے بعد ان دونوں شعبوں میں بہت ذیادہ تبدیلی آئی ہے. اور دونوں شعبے کبھی غزت, شہرت, بلوغت, سنجیدگی, بردباری اور ایمانداری کی نشانیاں ہوا کرتی تھی. اب ہر آدمی اپنے اپ کو انٹرنیشنل لیول کا سیاستدان اور تجزیہ نگار سمجھتا ہے. گھر بیٹھے اپنے بید روم سے بیان جاری کردیتا ہے اور ہر شریف کی داڑی نوچتا رہتا ہے. پڑھنے اور دیکھنے والا آئی ڈی کی شناخت کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن مرد کے جگہ عورت اور عورت کی جگہ مرد کی تصویر ہوتی ہے. جس پر کیچھڑ اچھالا گیاہو تو وہ سوچھتے رہ جاتا ہے کہ وار کہاں سے آیا ہے اور کس کو جواب دوں. کسی زمانے میں سنتے تھے کہ سرکاری ادمی سیاست کیا بلکہ سیاسی بات بھی نہی کرسکتا ہے. خاضر سروس ملازم کیا بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کچھ عرصہ خاموشی اختیار کرنا لازمی قراردیا جاتا تھا. اب تو آفیسر اور ماتخت ایک ہی دفتر میں سیاسی بیان بازیوں میں مصروف نظر آتے ہیں.
اسلئے میرے فیس بکی بھائیوں بیان داغنے سے پہلےکچھ تخقیق بھی کرلیا کرو. اپنے تخریر اور زبان میں مٹھاس پیدا کیجئیگا. سیاسی اور تخریری بلوعت سے کام لیں. یاد رکھیں کہ زبان سے نکلی ہوئی بات, رائفل سے نکلی ہوئی گولی اور بیلٹ سے نکلا ہوا پیٹ کبھی واپس نہی آتا. فیس بک اپکا چہرہ ہوتا ہے. اپکے پروفائیل کو پڑھ کر اگلے کو اپکی شحصیت کا اندازہ ہوجاتا ہے. تنقید ضرور کریں لیکن ٹھوس شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ. ورنہ کسی دن عدالت کے کٹہرے میں اپنے الفاظ کے دفاع میں بے بس کھڑے رہوگے. اور سرکاری آفسران صاحبان سے درخواست ہے کہ اپنے ماتختوں کو سیاست پر تبصرہ نہ کرنے کی ہدایت جاری کی جائے. سیاست جن کاکام ہے انکو کرنے دیا جائے اور اگر کسی کو سیاستطکرنا کا شوق تنگ کرتا ہو تو سرکاری نوکری چھوڑ کر میدان میں آجائے. اور فیک آئی ڈیز والوں سے بھی درخواست ہے کہ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے نام سے آئی ڈی بناکر کھل کے تنقید کرے.
تحریر و تجزیہ
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبرپختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں