316

دور جدید کی سیاست میں دو نئے الفاظ

دور جدید کے سیاست میں دو نئے الفاظ ” مالشیا/پالشیا اور الیکٹیبل”
ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملہ پر تقریباً سارے ہی پارٹیوں میں ورکرز سیخ پا ہیں. کچھ کارکن فرداً فرداً کچھ ٹولوں کے شکل میں اپنے اپنے قائدین سے اختجاج کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں. خیر قائد کی نظر سیٹ کے جیتنے پر ہوتی ہے جبکہ کارکن کی نظر اپنے ٹکٹ پر. کارکن اپنے پرانے خدمات کا صلہ مانگتے ہیں. اس صورت خال میں قائد کے لیئے فیصلہ کرنا کافی مشکل ہوتا ہے. مایوس کارکن اپنی قربانی کو ضائع ہوتے دیکھ کر کہتا ہے کہ تو نہ مالشیا ہوں اور نہ پالشیا. یہ محاورتاً الفاظ ہیں کہ ضرورت سے ذیادہ خدمتگار رہنا. دوسری طرف ایک اور لفظ الیکٹیبل دیکھنے اور سننے میں ملتا ہے. ان کو اکثر پارٹیاں ٹکٹ دے چکی ہیں. یہ دراصل وہ لوگ ہیں جنکے پاس طاقت, دولت اور انتخابی سائنس کا شغور ہوتا ہے. یہ سائنس والی بات پی ٹی آئی کو بائیس سالوں کے بعد سمجھ آئی ہے اور اس دفعہ عملی طور پر استعمال بھی کیا ہے. جس کی وجہ سے پرانے نظریاتی کارکن ناراض ہیں. لیکن اس پارٹی میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہاں موروثیت کا عنصر بلکل نظر نہی آتا. باقی تمام پارٹیوں میں بہت ذیادہ ہے. خاصکر پی پی پی پی اور مسلم لیگ میں تو بہت ہی زیادہ ہے.
مجھے یقین ہے کہ خان صاحب نے جن نظریاتی کارکنوں کو پیچھے چھوڑا ہے بمقابلہ الیکٹیبل کے. تو انکو ضرور مستقبل میں کہیں نہ کہیں ایڈجسٹ کرینگیں. کارکنوں مایوس نہیں ہونا چاہئے.

تجزیہ اور تخریر
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبرپختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں