353

غریب ملک اور عیاش حکمران

پاکستان ایک غریب ملک ہے. بین الاقوامی سروے کے مطابق یہ ملک غریبوں اورمقروض قوم کا ملک کہلاتا پے. لیکن بدقسمتی سے ہمارے حکمران مالدار اور عیاش پرست ہیں. ان لوگوں کے بیرون ملک بینک اکاونٹ, کاروبار اور رہائشیں موجود ہیں. یہ اربوں ڈالر کے مالک ہیں. ان کے گھوڑے, کتے اور بلیاں مربّے کھاتے ہیں جبکہ عوام دو وقت کی روٹی نہ ملنے کی وجہ سے پورہ خاندان اجتماعی خودکشی کرتے ہیں. انکا علاج لندن میں نرم بستروں پر ہوتا ہے اور عوام اس ملک کے بدبودار اور جراثیم سے بھرے ہوئے ماخولیاتی الودگی سے بھرے ہوئے ہسپتالوں میں موت کا انتظار کرتے ہیں. انکے بچے بیرون ملک یونیورسٹیوں سے تعلیم لیتے ہیں اور ہمارے بچے ٹاٹ کے سکول میں مٹکے کے ساتھ بندھے ہوئے گلاس میں پانی پی کر وزیراعظم بننے کے خواب دیکھتے ہیں. ہر پارٹی کا سربراہ بشمول مہذہبی پارٹیوں کے کروڑوں روپوں کے لینڈ کروزروں میں درجنوں گاڑیوں اور گارڈز کے سائے تلے سفر کرتے ہیں.کھانے پینے, سفر, آرام, میٹنگز, جلسے جلوسوں پر کرڑوں روپے خرچ کرتے ہیں. قوم کے ٹکسوں پر عیاشیاں کرتے ہیں. اپنے اپکو ملک کا مالک اور غریب کو دہشتگرد کہتے ہیں. انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ سائیکل چور جیل میں اور اربوں ڈالروں کا چور ملک میں فل فلیج پروٹوکول لیکر ازادانہ گھوم پھر لیتے ہیں. قوم کو جمہوریت کے نام پر بیوقوف بناکر پانچ سال کے لیئے غلام بنا کر آئی ایم ایف کے ساتھ گروی رکھ دیتے ہیں. اب 25 جولائی کو انتخابات ہورہے ہیں. ہم کس کو ووٹ دینگے. کون غریبوں کا خیر خواہ ہے. عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے قیمتی گاڑیوں سے سمیت آدھے درجن گارڈز کے اتر کر کہتے ہیں کہ اپکا خادم خدمت کے لئے خاضر ہے. سارا فراڈ ہے. سوال یہ ہے کہ ووٹ کس کو دوں. جواب ندارد. اس قوم کا اللہ ہی خافظ. میں ذاتی زندگی میں مایوس انسان نہی ہوں لیکن ملک کے سیاسی سسٹم سے مایوس ضرور ہوں. موجودہ خالات لمخہ فکریہ ضرور ہے. مجھے مسیخا کہیں نظر نہی آرہا. مسیخا عمرے پر کروڑوں روپے لگاتا ہے. وزیراعظم گھر کا وزٹ کرنے کروڑوں کا خرچہ کرتا ہے. مولوی بھی مدرسوں کے وزٹ پر کروڑوں کا پٹرول اور ڈیزل کا بل پیش کرتا ہے. وزیراعلی اور صدر بھی کچن کا خرچہ کروڑوں میں خزانے سے نکلواتا ہے. غریب کا بچہ بیج سڑک رکشے میں جنم لیتا ہے. امیروں کے بچے نو ماہ کے بجائے پانچ ماہ میں پیدا ہوتے ہیں. الزامات کی ماہر قوم کسی کو معاف نہی کرتی. ہم کہاں جارہے ہیں. ہم کون ہیں. ہم کیا کررہے ہیں ہمارا مستقبل کیا ہے. میں کس کو ووٹ دوں اور کیوں دوں. میرے درجنوں سوال اس غریب قوم کے عیاش خکمرانوں سے ہیں. کوئی ہے کہ مجھے بتائے کہ پانچ سکیل کا سپاہی کروڑ پتی کیسے بنتا ہے.

تخریر و تجزیہ
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری.
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبرپختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں