385

سیاست اور تجارت میں فرق

جمہوریت کی تعریف:

جمہوریت کی لغوی معنی ”لوگوں کی حکمرانی“ Rule of the people کے ہیں ۔ یہ اصطلاح دویونانی الفاظ Demo یعنی ”لوگ“ اور Kratos یعنی ”حکومت“ سے مل کربنا ہے ۔بعض لوگ اس کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ لوگوں کی ”اکثریت کی بات ماننا“ لیکن درحقیقت یہ ”اکثریت کی اطاعت“ کا نام ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یونانی مفکرہیروڈوٹس (Herodotus)کہتا ہے کہ:
”جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں“

چنانچہ سابق امریکی صدر ”ابراہم لنکن“ کا یہ قول جو کہ جمہوریت کا نعرہ ہے. اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے:

Goverment of the poeple by the people, for the people
”عوام کی حاکمیت، عوام کے ذریعے، عوام پر.
جمہوریت کی تاریخ بہت پرانی ہے. کچھ مورخین اسکو قبل از مسیح دور سے جورتے ہیں اور کچھ انقلاب فرانس کے ساتھ. ذیادہ تر لوگ اسکو 400 سال سے مانتے ہیں. جمہوریت کی اس تغریف کے مطابق اس نظام سے عوام کو فائدہ ملنا تھا لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایسا نہ ہوسکا. ہمارے لیڈرز اس نظام کو صیح طریتے سے چلا نہ سکے اور اداروں کو کمزور کرتے رہے اور بار بار فوج کو دعوت دیتے رہے اور جمہوری نظام کو کمزور کرتے رہے. ہمارے لیڈرز نے اسکو سیاست کم اور تجارت ذیادہ مانا اور قوم دن بدن تباہی کے طرف دھکیلتے رہے. اور اس دوران ملک قرضوں کے دلدل میں پھنستارہا. یہاں تک کہ اب قوم کا ہر بچہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے کا مقروض ہے. یہ ہے عوام کی خکومت.
بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان جمہوریت کے ٹھیکداروں نے قوم اور ملک کو جمہوریت کے نام سے بار بار لوٹا. اس گناہ میں ہم انکے برابر کے شریک ہیں. یہ موقعہ ہم نے انکو مہیا کیا ہے. ہمیں چاہئے کہ ہم ایک ایسے لیڈر کو سامنے لائیں کہ وہ قوم کا وفادار ہو. وہ سیاست کو سمجھتا ہو. اسکو تجارت نہ بنائے بلکہ خدمت کے نظریہ سے ملک کے نظام کو چلائے جس سے عوام کے مسائل حل ہوجائے. مجھے بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سیاست کے ٹھیکداروں کے گھوڑے, بلے اور کتے لڈو, پھل اور مربے کھائے اور قوم کے بچے اپنے لیئے کھانا ڈسٹبن میں تلاش کرے.
میرے بھائیو اور بہنو ہم کب اس ملک کو کامیاب کرینگے. کیا اپ اس ملک کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں یا خاندان اور برادری کے لوگوں کو. آؤ ملکر عہد کریں کہ ووٹ اسکو دینگیں جو ملک کا خیر خواہ ہوگا. مجھے موجودہ صورتحال میں عمران خان سے ذیادہ حقدار اور محلص اور کوئی نظر نہی آرہا. عمران خان نے جسکو بھی ٹکٹ دیا ہے. بس اسکو کامیاب کرنا ہے. باقی سارے قصے کہانیاں فلخال بھول جائیں. ووٹ صرف عمران خان کا. انشاء اللہ پاکستان کا مہاتیرمحمد اور طیب اردگان ہوگا.
تحریر و تجزیہ
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخوا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں