حوصلہ شکنی سے حوصلہ افزائی تک کا سفر

جناب ایک دور تھا جب عمران خان صاحب اور انکی ٹیم جب پبلک میں سیاست اور ملکی خالات تبدیل کرنے کی بات کرتے تھے تو غلام اور بیمار ذھن والے لوگ فرمایا کرتے تھے کہ بلی کے خواب میں چھیچڑے والی مثال دیا کرتے تھھے لیکن شاعر نے کیا خوب کہا تھا.
سنو اے ساکنانِ خطۂ پستی
ندا کیا آ رہی ہے آسماں سے
کہ آزادی کا ایک لمحہ بہتر ہے
غلامی حیاتِ جاوداں سے
آج عمران خان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کا خلف لینے کے لیے تیار.
یہاں پھر مرد قلندر شاعرِ مشرق نے خوب فرمایا تھا شائید یہ الفاظ ٹائیگرز کے لیے تھے.
تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیئے
آج کل لوگ حوصلہ افزائی کرتے ہیں لیکن 22 سال بعد کامیابی نصیب ہوئی ہے. ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئیے اور ملکِ خداداد کے ہر شخص سے مشورہ لیکر حکومت کرنی چاہیئے. لوگوں کی حکومت, لوگوں کے زریغے اور لوگوں کے لیے.
تحریر
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخواہ

اپنا تبصرہ بھیجیں