174

میں کیا ہو کسی کو معلوم نہیں ۔ تم کیا ہو وہ مجھے معلوم نہیں

میں کیا ہوں کسی کو معلوم نہی
تم کیا ہو وہ مجھے معلوم نہی
تنقید مجھ پر جو کرتا ہے
خساب مجھ سے جو سو دن کا مانگتا ہے
وہ اخساب کیوں نہی مانگتا 30 سالوں کا.
حساب جو کرتے ہیں ہیلی کے ایک ایک گھنٹے کا.
وہ حساب کیوں نہی پوچھتے ارب پتی بننے کا
جسکا جنم ہو رکشے میں.
اسکے حاکم کے دانت کا علاج ہوتا ہے لندن میں
جسکا نومولود مقروض ہو لاکھوں کا
شاہی خاندان کا بیٹا سولہ سال میں ارب پتی کیسے
دل روتا تھا خون کے آنسوں
جب ناشتہ آتا تھا ہیلی میں
تب کسی نے پوچھا نہی اس ظالم سے
جب وہ پہنچا آڈیالہ جیل میں
تب سے ہیں سارے دشمن میرے خان کے
جب سے خقہ پانی بند ہوگیا ہے سب کا
تب سے ساری خامیاں ہیں میرے وزیراعظم میں.
ضمیر کو جنجھوڑنے والی آگئے ہیں
چوروں کے چھکے اڑانے والے آگئے ہیں.
جیلوں کی صفائیاں شروع ہو چکی ہیں.
مجرموں کے دلوں میں کھپکھپی شروع ہوچکی ہے
کلام بخت روم شاہ بونیری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں