368

بلدیاتی نظام اور منتحب ناظمین و کونسلران

معمبر زمان بونیری
اصل میں یہ نظام عوام کے مسایل کو انکے دہلیز پر حل کرنے اور اقتدار کو نچلی سطح تک منتقلی کی ہی عرض سے بنایا گیا تھا۔لیکن یہاں گنگا الٹی بہنے لگا۔عوام کے مسایل جوں کے توں پڑھے ہیں۔اس میں اے روز اضافہ ہورہا ھے۔لیکن منتحب نمایندو کے وارے نیاری ضرور دیکھنے کو ملی ھے۔مثلا بڑے بڑے گاڑیاں۔بھاری تنحواہیں۔شاہانہ ٹاٹ باٹ۔رعب اور دھب دھبہ وعیرہ۔ضلع بونیر میں وی سی ناظمین اور کونسلران کے زمے گلی کوچوں کی صاف صفای۔پحتگی وعیرہ کے زمداریاں سونپیۓ گیے تھے۔لیکن ضلع بھر میں صاف صفای کاحال سب کے سامنے ہیں۔ڈنگی مچھر کیلے موسم کافی سازگار ھے۔لیکن سپرے کا نام ونشان نہیں۔تحصیل کونسل اور ضلع کونسل بھی گلی کوچوں کے پحتگی میں لگے ہوے ہیں۔اور ہر سیاسی پارٹی کا منتحب نمایندہ بلا حوف و حطر صرف اپنے ہی پارٹی ورکران کے گلی کوچوں کو پحتہ کررہےہیں۔انکے لیے ٹیوب ویلز بنانے میں لگے ہیں۔دوسرے جانب وہ لوگ جو ایک عرصہ سے گلی کوچوں کی پحتگی۔پینے کے صاف پانی اور دیگر ضروریات سے محروم تھےتاحال محروم ھے۔انکے گلی کوچیاں جوں کے توں پڑھی ھے۔گندگی کے ڈھیر لگے ہوے ہیں۔شروع سے لیکر اج تک بلدیاتی نظام سے ضلع بھر میں کتنے لوگ مستفید ہوے۔کتنے لوگوں کے مسایل انکے دہلیز پر حل ہوے۔اور کروڑوں کی یہ رقم ضلع بونیر کے کونسے بڑے منصوبے پر حرچ ہوی۔اور مزید اگر حرچ ہوتے ہیں تو اسکے عوام کے حق میں حاطر حواہ نتایج کیاھے۔یہ پالیسی اور اسکے بنانے والے کو اپ لوگ کس نظر سے دیکھتے ہیں۔میرے نزدیک تو یہ عمل صرف ضلع اور یونین کونسل کے حد تک محدود کرنا درست ہوگا۔تحصیل اور ویلج کونسل کو بیھج میں سے نکال ہی لیں تو بہتر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں