382

تنقید و احتساب جناب بخت شاہ کا کالم

جسطرح اقتدار میں آکر حکومتی لوگ اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں تو اسی طرح اختلاف والے بھی حکومت کے ہر ناجائیز بات پر شور کرتے ہیں. ایک مضبوط اپوزیشن ہی ملک کے نظام کو صیح چلانے میں اتنے ہی شامل ہوتے ہیں جتنے اقتدار والے ہوتے ہیں. خیر پاکستان میں این آر او والی اپوزیشن ہوتی ہے. ہر طرف مُک مُکا ہوتا ہے. یہاں سچ بولنا گناہ ہے. اس دیش میں جو بھی ایسا کرےگا تو اسکی زبان کو لگام ڈالنے والے بہت ہوتے ہیں. اور اخر میں زبان کاٹنے تک بھی نوبت آجاتی ہے. لیکن اب ایسا نہی چلے گا. میرے قائد عمران خان کا فرمان ہے کہ اگر میں بھی کوئی غلط کام کروں تو میرے گریبان میں بھی ہاتھ جانا چاہئے. پھر نیچے کس کے جرات کہ وہ بات کرسکے. چار سال ہونے والے ہیں کہ بلدیاتی نظام قائم ہوچکا ہے لیکن پھر بھی گاؤں کے بہت سارے کام ویسے کے ویسے پڑے ہیں. خیرانگی یہ ہے کہ ہماری بات کو کون سنےگا. کیا نظام بدلنے کا نغرہ کھوکھلا تھا. اے ڈی بونیر کو پوچھنے والا کوئی نہی. گاؤں کلپانی کے صفائی کی خالت نا گفتہ بہ ہے.
گاؤں میں دو چیئرمین ہیں (ویلج ون اور ٹو) جب مسائل کی بات ان سے کیجاتی ہے تو جواب اے ڈی ہوتا ہے کہ وہ کام میں ٹانگ آڑاتا ہے.
ڈی سی بونیر سے درخواست ہے کہ پینے کا صاف پانی, گندے پانی کا انعکاس, لو ولٹیج, ڈینگی سپرے اور گندگی اٹھانے کا بندوبست ہنگامی بنیادوں پر کیا جائے اور متعلقہ اداروں کو کام کرنے کا حُکم صادر فرمایا جائے.
تخریر
بخت روم شاہ بونیری سماجی کارکن کلپانی بونیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں