174

کون ظالم اور کون مظلوم؟

کون ظالم اور کون مظلوم?

ملک کو لوٹنے والوں نے اس ملک کا وہ حشر کردیا ہے کہ اب سدھرنے کے لیے پتہ نہی کتنا وقت درکار ہوگا اور کتنے چندے اور قربانیاں دینی ہونگی. ہر بندہ پریشان ہے کہ جو ملک یومیہ 6 ارب روپے صرف قرضے پر سود ادا کرتا ہے تو قرضہ کیسے ختم کرے گا. کیا غریب غریب تر بنتا جائیگا اور امیر امیر تر?.
اگر کوئی ظلم کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے تو ظالم سے نفرت کرنی ہوگی. لیکن ہم لوگ تو ڈاکوؤں اور چوروں کے جرائم پر پردہ ڈالنے والے ہیں. ہم تو ظالم جب جیل سے رہا ہوتا ہے تو پھولوں کے مالا کو انکے گلے میں ڈالنے کے عادی لوگ ہیں. دنیا میں پاکستانی ایک واحد عجیب قوم ہے جو اپنے قاتل, ڈاکو, چور, لٹیرے پر فخر کرتے ہیں. یہ نہی کہ انکو ظالم سے نفرت نہی بلکہ ظالم سے ڈرتے ہیں. عدم تخفظ کا شکار ہیں. آج اگر ہم نے قربانی نہی دی تو کل ہماری اولادیں غلام ہونگیں.
اللہ نے ہم پر بہت بڑا کرم کردیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً ہر طرف حکومت پی ٹی آئی کی ہے. اور میں امید کرتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں بلدیاتی انتخابات کے زریغے عوام پی ٹی آئی کی نامزد کردہ امیدواروں کو کامیاب کرائیگی. اور آمازئے ہوئے لوگوں کو دوبارہ اقتدار کے منصب پر براجمان نہی ہونے دینگے.
اگر کوئی ظلم کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے تو ظالم سے نفرت کرنی ہوگی.
تحریر
بخت روم شاہ بونیری سماجی اور سیاسی کارکن پی ٹی آئی بونیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں