353

جدید دور میں علم و فنون میں مغرب آگے کیوں؟

جدید دور میں علمِ ہنر وفنون میں مغرب آگے کیوں

ایک زمانہ تھا کہ اسلامی حکومتوں کے زیر سایہ نئی نئی ایجادات ہوتی تھیں اور بڑے بڑے سائنسداں ،حکماء اور ڈاکٹر پیدا ہوتے تھے مگر آج حالات اس سے مختلف کیوں ہیں؟ آج کوئی ابو علی ابن سینا, ابن ہیثم, ابن رشد, جابر بن حیان جیسے کیمیا داں, زکریا رازی اور ابوالقاسم زہراوی علم وہنر جیسے مسلمان سائنسدان آسمان پر کیوں نہیں چھائے جاتے ہیں؟
میرا خیال ہے کہ مسلمانوں کا زوال اس وجہ سے ہوا کہ وہ علم وہنر وفنون میں اور تسخیر کائنات میں پیچھے رہ گئے ہیں اور مغرب نے ان میدانوں میں سبقت حاصل کرلی ہے.
تخقیق کے میدان میں ہم کافی پیچھے ہیں. اس وقت پاکستان دفاع کے میدان میں تو مغرب کے قریب تر ہے لیکن باقی میدانوں میں کافی پیچھے ہے. کیونکہ ہمارا تعلیمی بجٹ اپنے جی ڈی پی کے 2.5 فیصد ہے جبکہ یونیسکو کے مطابق ہر ملک کو اپنے جی ڈی پی کا کم از کم 4 فیصد شعبہ تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے۔ تعلیم کے لیے مختص کیے جانے والے مجموعی ملکی پیدا وار ـجی ڈی پی کا 4 فیصد محض ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ اگر دیگر ممالک کا پاکستان کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو نیپال اوسطاً اپنے جی ڈی پی کا 4.7 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے ۔مالدیپ اوسطاً اپنے جی ڈی پی کا 7 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے اور پھر افریقہ کے سوازی لینڈ اور کینیا جیسے ملک ہیں اور وہ بھی اپنے جی ڈی پی کا 7 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ایران اپنے جی ڈی پی کا3.7 فیصد بھارت 3.8فیصد ،بھوٹان6 فیصد اور افغانستان 4.2 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے.
جب ملک میں ریسرچ اور تعلیم کے لیے اتنا قلیل رقم کیا مختص کیا جائے گا تو پھر ہم مغرب کا مقابلہ کیسے کرینگے.
تخریر و تجزیہ
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں