گڈ طالبان اور بیڈ طالبان – فرق، کب کیوں اور کیسے بنے؟

گڈ طالبان VS بیڈ طالبان.

ایک بڑی تعداد آج تک ان دو گروہوں میں الجھی ہوئی ہے کہ آخر یہ گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کون ہیں ان میں کیا فرق ہے اور گڈ اور بیڈ طالبان بنے کیسے؟

بھارت نے 1971 میں روس کی مدد سے پاکستان کو دو لخت کیا جس روس یعنی سوویت یونین نے پاکستان کے گرم پانیوں تک رسائی کے لیے افغانستان پر حملہ کیا تھا اور شاید پاکستان کو ہلکا لے بیٹھا تھا.

جنگ پاکستان کے خلاف تھی مگر سرزمین افغانستان کی تھی جس پر قبضہ کرکے روس مستقل طور پر افغانستان میں اپنا بسیرا رکھنا چاہتا تھا تو پاکستان کے پاس دو آپشن تھے ایک تو خود اس جنگ میں کود پڑتا یا پھر جہاد کا اعلان کرتا.

چونکہ جنگ افغانستان کی سرزمین پر تھی تو پاکستان کے پاس فوجی آپشن نہیں تھا کیونکہ فوجی آپشن سے یہ جنگ دو ملکوں تک بڑھ جاتی اور مشرقی سرحد پر بھارت بھی اس انتظار میں تھا.

اس لیے پاکستان نے دوسرا آپشن استعمال کرتے ہوئے مجاہدین کو تربیت دینے کا فیصلہ کیا جس میں اس وقت بوجہِ مجبوری امریکہ نے بھی ساتھ دیا اور مجاہدین کو سپورٹ فراہم کی.

جس وقت پاکستان افغانستان کے لیے لڑ رہا تھا اسوقت غیور اور 5000 سالہ تاریخ رکھنے والے لاکھوں افغان بیوی بچوں کو اٹھا کر پاکستان آگئی جن کا آج کل پاکستان میں دہشتگردی کرنے اور پاکستان کو گالیاں دینے کے سوا دوسرا کوئی کام نہیں.

خیر افغان مجاہدین کے ساتھ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اس افغان جہاد کا حصہ بنی اور روس کو افغانستان سے مار بھگایا گیا جس کے بعد دُنیا نے روس کو بکھرتے دیکھا. جنگ ختم ہوئی افغانستان میں افغان طالبان کی حکومت قائم ہوئی.

پھر امریکا کو کتے نے کاٹا اور نائن الیون کا ڈرامہ رچا کر امریکہ افغانستان آن پہنچا. کچھ لوگ اس جنگ کا سارا ملبہ امریکا پر ڈالتے ہیں جبکہ اس جنگ کا علم نہ صرف افغان خفیہ ایجنسی کو تھا کہ بلکہ جنگ سے پہلے امرللہ صالح جو کہ امریکی سی آئی اے کے لیے کام کرتا تھا اس جنگ سے پہلے واقف تھا اور یہی شخص افغان طالبان اور پاکستان کا انتہائی سخت مخالف ہے. امریکہ نے افغانستان حملے سے قبل اسی بندے کو ہی آگاہ کیا تھا.

خیر چلتے ہیں آگے امریکہ اپنا لاؤ لشکر لیکر افغانستان آن پہنچا. یہاں پر ہی گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی تقسیم شروع ہوگئی اس تقسیم میں سی آئی اے اور افغان خفیہ ایجنسی کا ہی ہاتھ تھا جس کا مقصد افغان مجاہدین کی طاقت کو توڑنا اور دوسری طرف امریکا کے اس مقصد کو کامیاب کرنا جس کی غرض سے وہ افغانستان آن بیٹھا تھا یعنی کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرکے پاکستان کے ایٹمی دانت توڑنا.

یہاں امریکہ نے وہی پینترا کھیلا جو پاکستان نے روس کے ساتھ کھیلا تھا کہ خود فوج نہ اتاری جاسکے تو پراکسی وار کا طریقہ اپناؤ اور امریکہ نے اپنے زر خریدوں کو اتار دیا لیکن امریکہ واقف نہیں تھا کہ اسکا مقابلہ بھی اسی آئی ایس آئی سے ہے جس نے روس کا بیڑہ غرق کیا تھا.
خیر چند لوگ سی آئی اے کے ہاتھوں بِک گئے اور انہوں نے افغانستان میں امریکا کا مقابلہ کرنے کی بجائے امریکہ کے لیے پاکستان سے مقابلہ شروع کردیا.

جس میں وزیرستان سے کچھ ضمیر فروشوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ وزیرستان میں سکون اور امن سے رہنے والے پختونوں کا بھی سُودا کرلیا اور دہشتگردوں کو افغانستان سے لا کر وزیرستان میں پناہ گاہیں فراہم کیں.

جہاں پاکستان کے خلاف محاذ کھولنے کے لیے انہوں نے وزیرستان میں قدم جمانے شروع کردیے اور وہاں کے لوگوں کو اپنا محکوم بنا کر صرف وہیں تک ہی نہیں رکے بلکہ پاکستان کو بھی انہوں نے خوُن میں نہلادیا.
فوج، پولیس، مسجدوں، مندروں، گرجوں،سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، ہسپتالوں، غیرملکیوں غرض کسی جگہ انہوں نے پاکستانیوں کے قتل عام میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جبکہ افغان مجاہدین برابر انکی اس قسم کی کاروائیوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے رہے.

افغانستان میں کئی موقعوں پر گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کے درمیان جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں.
گڈ طالبان آج بھی امریکہ کے خلاف افغانستان میں برسرِپیکار ہیں جبکہ بیڈ طالبان جہنم کے کتے خارجی الحمدللہ پاک فوج کے ہاتھوں نیستُ و نابود ہوچکے ہیں.

کیا یہ سمجھنے کے لیے کافی نہیں کہ گُڈ کو امریکہ کے خلاف لڑتے ہوئے فتح ہوئی اور بیڈ کو پاک فوج کے خلاف لڑتے ہوئے شکست ہوئی تو کیا گڈ اور بیڈ اور حق و باطل کا فرق نہیں کرسکتے.

انوکھاسپاہی

اپنا تبصرہ بھیجیں