سپریم کورٹ اب ISI کے پیچھے پڑگئی ہے۔

‏آرمی چیف تقرری پر اپنا مزاک اڑوانے کے بعد سپریم کورٹ اب ISI کے پیچھے پڑگئی ہے۔ جسٹس فائز عیسی کیس میں باتیں ہورہی ہیں کہ ججز کی جاسوسی کرنا حکومت کو تحلیل کرنے کیلیے کافی ہے۔

ججز کہتے سنائی دیے گئے کہ اس حوالے سے قانون سازی ہونی چاہیے۔ یعنی قانون بناؤ کہ آئندہ ISI کسی کی جاسوسی نہیں کرے گی۔

‏بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ یہ انسانی وقار کا معاملہ ہے، فون ٹیپ کیلیے کوئی قانون ہونا چاہیے۔ بتایا جائے جاسوسی سے کیا مراد ہے، کیا کسی کا پیچھا کرنا جاسوسی ہے یا کسی کے بیڈروم میں کیمرے لگانا جاسوسی کے زمرے میں آتا ہے، کیا کسی عدالت کا ایسا کوئی حکم موجود ہے۔

‏جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ جسٹس قاضی عیسی فائز کے وکیل ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے ججوں کو ڈرانے کیلیے کہا جج اور اس کے اہل خانہ سمیت کوئی بھی جاسوسی کا نشانہ بن سکتا ہے۔ جسٹس عمرعطا بندیال نےتائید کرتے ہوئے کہا ہاں کوئی بھی اس کا شکار ہوسکتا ہے۔

‏سپریم کورٹ کے پاس جسٹس قاضی عیسی فائز کے بہانے پاکستانی خفیہ ایجنسی کو لگام ڈالنے کا موقع آگیا ہے۔ آرمی چیف تقرری کو مزاک بناکر اپنی انا کی تسکین کرنےوالا چیف جسٹس شاید اکیلا حکومت سےسڑا ہوا نہیں بلکہ اسکا پورا گینگ اب حکومت اور ہماری خفیہ ایجنسی OSI کو لگام ڈال کر اپنی برتری ثابت کرنا چاہتا ہے۔

# یاسررسول

سپریم کورٹ اب ISI کے پیچھے پڑگئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں