مولانا کا پلان بی ایک انتہائی خطرناک منصوبہ ھے. کیونکہ

مولانا کا پلان بی جو ھے ایک انتہائی خطرناک منصوبہ ھے. کیونکہ مولانا کے حمایتی پیپلز پارٹی اور نواز لیگ جیسی کرپٹ اور مفاد پرست سیاسی جماعتیں ھیں۔ یہ بھی سننے میں آ رہا ھے کہ مولانا پلان بی کے تحت کراچی سے اندروں ملک آنے والی تمام شاہراہیں بند کرنے جا رہے ھیں۔۔۔

اس شر انگیز پلان بی منصوبے میں مولانا کے حمایت کنندہ پی پی قیادت ان کا بھرپور ساتھ دے گی۔ کیونکہ سندھ میں ویسے بھی پی پی کی ہی حکومت ھے. اس لیے مولانا کا ریاست اور مرکز کے خلاف یہ وار انتہائی خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ھے۔ کیونکہ تقریباً اسی فیصد ملکی درآمدات و برآمدات جو سمندری راستے سے ھوتی ھیں۔ ان سب کی ترسیل کا دارومدار انہی شاہراہوں پر ھے۔۔۔

اس طرح تو مولانا اور اس کی حمایتی صوبائی حکومت سندھ ملک کو پلک جھپکنے میں مفلوج کر دیں گے۔ ملکی معاشی و انتظامی نظام کا پہیہ جام کر دیں گے۔ جس سے دنوں میں ملک کو اربوں کھربوں کا نقصان ھو گا۔ اور ان کو سندھ میں کم از کم صوبائی حکومت ہرگز کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی. کیونکہ وہ خود ان کے ساتھ ھے۔۔۔

آج پہلے اٹھارویں ترمیم سے متعلق تحریر اسی لیے پیش کی تھی کہ ان ملک دشمن اور غدار سیاستدانوں کے حربے آپ سب پاکستانی عوام جان اور پہچان لیں. اب چونکہ سندھ کے تمام صوبائی انتظامی و سکیورٹی اختیارات پی پی کے پاس ھیں۔ اس لیے سندھ حکومت تو کم از کم اس شرانگیز دھرنے اور شاہراہوں کی بندش جیسے ملک دشمن منصوبے کو کبھی نہیں روکے گی۔ بلکہ ایک قدم اور آگے بڑھ کر خداناخواستہ کوئی تخریبکاری کروا کر اس آگ کو مزید پھیلا سکتی ھے۔۔۔

جس طرح سماء نیوز کا بریک کردہ حالیہ انکشاف سامنے آیا ھے کہ نواز شریف نے ٹیلیفون کال کے زریعے کیپٹن صفدر کو مولانا کے اسلام آباد مارچ میں کچھ ایسا کرنے کا کہا کہ جس سے پرامن دھرنا پرامن نہ رھے بلکہ پرتشدد مظاہرے کی شکل اختیار کر جائے۔ تو پیارے ھم وطنو ایسے ہی یہ کم بخت سیاستدان اپنے وقتی مفاد یابغض کیلیے ریاست کا امن اور ریاست کا وجود خطرے میں ڈالتے ھیں۔۔۔

اس طرح مولانا کے مارچ کا سلسلہ بڑھتا بڑھتا پاکستان کی سلامتی کیلیے سخت خطرات پیدا کرے گا۔ اور اگر ان حالات میں ملک میں داخلی انتشار اور انارکی شروع ھو گئی تو وہ پھر تھمنے کا نام نہیں لے گی۔ جیسے خشک لکڑیوں کو اگر ایک بار آگ پکڑ لے تو ان کو مکمل جلائے بغیر نہیں بجھتی۔ اسی طرح آج پاکستانی قوم صوبائی، لسانی، علاقائی، فرقہ وارانہ گروہ بندیوں کی شکار ھو کر خشک لکڑیوں جیسی ھو چکی ھے۔ اور اگر خدا ناخواستہ ان خشک اور نفاق زدہ لکڑیوں کو ایک بار آگ لگ گئی تو پھر خدا ناخواستہ پورا ملک جل کر خاکستر ھو سکتا ھے۔۔۔

الله رب العزت میرے وطن عزیز اور میری پاک قوم کا حامی و ناصر ھو. آمین یا رب العالمین

تہذیب الحسن

مولانا فضل الرحمان صاحب کا دھرنا
مولانا فضل الرحمان صاحب کا دھرنا

اپنا تبصرہ بھیجیں