پاکستان کا یہ ایک ہی پلان بھارت کےلئے کافی ہوگا…

پاکستان بھارت اور خالستان تحریک

تحریک خالصتان کے سربراہ کو اعزاز ٭٭
کچھ دوست کہہ رہے ہیں کہ عربوں کے مودی کو اعزاز دینے پر پاکستان بھی جواب میں ایران کے خامنہ ای کو اعزاز دے کہ اس سے امارات والوں کے سینے پر سانپ لوٹیں گے۔

مگر یہ کوئی بتائے کہ اس سے بھارت کو کیا فرق پڑے گا کہ ایران تو ویسے بھی بھارت کے قریب اور کلبھوشن جیسے بھارتی جاسوسوں کی پناہ گاہ ہے۔
یا پھر کچھ دوست کہہ رہے کہ عربوں کو تپانے کے لیے اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے۔

سمجھ میں اپنی یہ نہیں آرہا کہ ہم اصل کو بھول کر چند عرب امراء کوہی تپانے میں اتنے سنجیدہ کیوں ہوئے ہیں۔
ان آستین کے سانپوں کی تو خیر ہم بعد میں بھی آرام سے لے سکتے ہیں… (مثال کے طور پر پاکستان سے امارات جو ٹنوں سلاجیت برآمد کی جاتی ہے، اس پر مکمل پابندی لگانے جیسے اور بھی کئی سنجیدہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں مگر ہمیں فوری توجہ بہرحال بھارت کو تپانے پر مرکوز رکھنی چاہیے۔

اس کے لیے پاکستان کے پاس سب سے بہتر پلان یہ ہے کہ تحریک خالصتان کے دنیا بھر کے سربراہوں کو پاکستان بلا کر سب سے بڑا اعزاز دیا جائے اور ان کی ہر طرح ”اخلاقی مدد“ کا اعلان کیا جائے۔

یقین کیجیے، یہ وہ وار ہو گا، جس پر بھارتی میڈیا کی وہ چیخیں نکلیں گی کہ لطف ہی آ جائے گا۔
ہمارے خیال میں امریکا کے ڈاکٹر امرجیت سنگھ کو ترجیحی بنیادوں پر بلایا جانا چاہیے، کیوں کہ
خالصتان انٹرنیشل افیئرز سنٹر امریکہ کے سربراہ ڈاکٹر امرجیت سنگھ نے پچھلے دنوں کہا تھا کہ اگر سکھوں کے پاس قائداعظم محمد علی جناح جیسا ایک لیڈر بھی ہوتا تو آج پاکستان کی طرح خالصتان بھی دنیا کے نقشے پر موجود ہوتا۔

پاکستانی خوش قسمت ہیں کہ انہیں جناح جیسا باکردار اور جرات مند لیڈر ملا، دنیا بھر کے سکھ چاہتے ہیں کہ پاکستان مزید مضبوط ہو، ہماری بہت سی امیدیں پاکستان سے وابستہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا اگر پاکستان کی حکومت کشمیر کی طرح خالصتان کی آزادی کو بھی اپنی پالیسی کا حصہ بنا لے تو 30 ملین سکھ پاکستان کا یہ احسان کبھی فراموش نہیں کریں گے ۔

تو بس جی یہ بہترین موقع ہے مودی اینڈ ٹیم کو سبق سکھانے کا۔ بلائیے امر جیت سنگھ صاحب کو اور دیجیے اعزاز۔ ایک تیر سے دو شکار ہوں گے۔ خالصہ والوں پر احسان بھی اور پڑوسن اینکر آنٹی کی مزیدار چیخیں بھی!

اپنا تبصرہ بھیجیں