452

حاظ سعید رہا، انڈیا اپنی خیر منائے

حاظ سعید رہا، انڈیا اپنی خیر منائے

میں سمجھتا ہوں آج کی یہ ایک تصویر پورے انڈیا کو آگ لگانے کے لیے کافی ہے۔

آرٹیکل 370 ختم ہونے کے بعد چونکہ کشمیر بھی ختم ہوگیا ہے لہذہ اب انڈیا حافظ سعید پر کشمیر میں دخل اندازی کا الزام بھی نہیں لگا سکتا کیونکہ اس وقت کشمیر انڈیا کا حصہ نہیں بلکہ واپس 1948 میں چلا گیا ہے جب کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ جاری تھی۔

پاکستانی اعلیٰ دماغوں نے “پروفیسر حافظ سعید” صاحب کو اہم وقت پر رہائی دلواکے بہت اچھا قدم اٹھایا ہے۔ اس سے پورے بھارت کے تن بدن میں آگ لگ چکی ہے۔ اب کشمیر اور خود انڈیا کے اندر ایسی گوریلا جنگ ہوگی کہ پھر دنیا افغانستان میں امریکی فوجیوں کا چیخنا، سسکنا اور کتے کی موت مرنا بھی بھول جائے گی۔ اب دنیا یاد رکھے گی کہ تو صرف بھارت کی 8 لاکھ فوج کا کشمیر میں کتے کی طرح سسکنا اور مجاہدین کے ہاتھوں مرنا دیکھے گی۔

حافظ سعید صاحب اور صلاح الدین سلو مل کر بھارت کی بجانے والے ہیں، مودی تو اپنی خیر منا۔ آئی ایس آئی پہلے ہی کشمیری مجاہدین کے روپ میں وادی میں موجود ہے۔ جیسے ہی کرفیو ختم ہوا بھارتی فوجیوں پر ہر طرف سے حملے شروع ہوجائیں گے۔ آخر کب تک بھارت وادی کو بند رکھے گا؟

میرے خیال سے اب پاکستان کو FATF کے ٹینشن کو بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہیے کیونکہ جب خود بھارت کشمیر بارے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک چکا ہے تو ہم اسی اقوام متحدہ کی ایک معمولی
سی چھوٹی کمیٹی FATF سے کیوں ڈریں۔ یہ جو بھی فیصلہ کریں ہمیں بھی ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دینا چاہیے۔

اب کیا پدی اور کیا پدی کا چوربا۔ سب کچھ بھول کر اب صرف کشمیر آزاد ہوگا۔

تحریر : یاسررسول

نوٹ : مجھے ٹویٹر پر فالو کیجیے www.Twitter.com/IamYasirRasool

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں