ڈونلڈ ٹرمپ اور شلوار قمیص خان

عالمی سپر پاور امریکہ کے صدر ٹرمپ سے ملتے وقت عمران خان کا قومی لباس “شلوار قمیص” پہننا نہ صرف ایک حیرت انگیز خوشگوار تبدیلی ہے بلکہ امریکی غلامی سے نکل جانے والی ایک خودمختار قوم کی علامت بھی ہے۔

عمران کے سیاسی مخالفین بیشک اس کو ڈرامے بازی کہیں لیکن کم سے کم مجھے تو یہ لباس دیکھ کر بہت زیادہ خوشی ہوئی۔ اسکے علاوہ ٹرمپ کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ اٹکائے خوداعتمادی سے بولنا ہمارے خان کی ایک اور زبردست ادا تھی۔ غلام اور آقا کے اصول سے دیکھا جائے تو بلکل ایسے لگ رہا تھا جیسے اس دفعہ عمران امریکہ کا جبکہ ٹرمپ پاکستان کا صدر تھا۔

دراصل اس ادا سے دنیا کو دکھایا گیا کہ پاکستان اب امریکہ کا غلام نہیں رہا، بلکہ اب ایک آزاد خودمختار ملک بن چکا ہے۔ عمران نے امریکی امداد لینے کو لعنت قرار دیکر بھی امریکیوں کے منہ پر تھوکا ہے۔

ایک وقت تھا جب نواز شریف جیسا نااہل حکمران جیب سے پرچیاں نکال نکال کر اوبامہ کے سامنے پینڈو بن کر پڑھ کر سناتا جاتا تھا، بلکہ اسے پرچیاں بنا بناکر تھمائی جاتی تھیں کہ یہ یہ بولنا ہے کیونکہ یہ اتنا نااہل تھا کہ امریکی صدر کے سامنے اسکا گلہ ہی بیٹح جاتا تھا، سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ کیا بولنا ہے اور کیا نہیں بولنا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب ہمارا حکمران پڑھا لکھا خوددار انسان ہے جو امریکی صدر کے سامنے نہ صرف آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکتا ہے بلکہ ٹرمپ جیسے کھوتے دماغ کو اپنی بات پر آسانی سے قائل بھی کرسکتا ہے۔

جہاں تک ملاقات کی تفصیلات ہیں تو وہ آپ میڈیا پر سن یا پڑھ چکے ہوں لیکن جو چند اہم باتیں ہوئیں جن پر مستقبل میں پیشرفت ہونے والی ہےاس پر اگلے کالمز میں تفصیلا بات کروں گا۔

تحریر: یاسررسول

Imran khan in america with trump
Imran Khan In America

اپنا تبصرہ بھیجیں