پاکستان بھارت امریکہ 133

دو عشروں پر مشتمل پراکسی جنگ میں انڈیا کو بھاری شکست

پاکستان بھارت امریکہ

آج ” انڈین پنچ لائن” میں افغان امور کے ماہر انڈین تجزیہ کار ایم کے بدکمار کا ایک دلچسپ مضمون شائع ہوا ہے۔ اس نے اپنے مضمون میں جو کچھ بیان کیا ہے اس کا خلاصہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔

بیجنگ میں افغان امن عمل کے حوالے سے دنیا کی چار بڑی طاقتوں کے درمیان میٹنگ ہوئی۔ یہ چار طاقتیں روس، چین، امریکہ اور پاکستان تھیں۔

اس میٹنگ سے دنیا کو بہت سارے پیغامات گئے ہیں۔
پاکستان کی بے پناہ اہمیت اور دو عشروں سے جاری پراکسی جنگ میں انڈیا کی بھاری شکست، جس کو افغان امن عمل سے مکمل طور پر باہر کر دیا گیا ہے۔

پاکستانی اسٹیبلسمنٹ کی نہایت پیچیدہ جنگی ڈاکٹرائین بلاآخر کامیاب رہی ہے۔

پرو انڈین افغان اسٹیبلشمنٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہے،
پرو پاکستان افغان طالبان کو دنیا بھر میں بنیادی فریق تسلیم کرتے ہوئے افغانستان کو مکمل طور پر ان کے حوالے کیے جانے کا پروگرام ہے،
سی پیک میں روس کی شمولیت روس اور وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستان سے کنکریٹ کی طرح جوڑ دے گی،
پاکستان کی ملٹری نے بے پناہ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ جیتی اور پھر بے پناہ قوت برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوم پرستی کے نام پر اٹھنے والی تحریکوں کو غیر موثر کر دیا،
یورپ اور اب امریکہ میں کشمیر کے بعد خالصتان اور دیگر پسی ہوئی اقلیتیوں کے حق میں آوازیں تیز تر ہوگئی ہیں،
اور سب سے بڑھ کر
امریکہ اور پاکستان کے درمیان برف پگھلنے لگی ہے جس کا ثبوت ڈونلڈ ٹرمپ کی خصوصی فرمائش پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کا امریکہ کا دورہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں