473

حیات آباد آپریشن کی مختصر رپورٹ

آپریشن شروع کرنے سے پہلے اس مکان کو انڈر آبزرویشن رکھا گیا تھا۔
سب سے پہلی کوشش پولیس نے کی بریک ان کرنے کی لیکن جانے کا صرف ایک راستہ تھا اور دہشت گرد پوری طرح تربیت یافتہ اور مسلح تھے۔

کئی ناکام کوششوں کے بعد پاک فوج کو طلب کیا گیا۔
پاک فوج نے کوشش کی تو ایک افسر اور ایک جوان زخمی ہوگئے۔
اس کے بعد صبح تک انتظار کرنے کا فیصلہ کیا گیا شائد اس وجہ سے بھی کہ دہشت گرد تھک جائیں۔




گھر کی ساخت ایسی تھی کہ مین ڈور کے علاوہ اندر جانے کا راستہ نہیں تھا۔
صبح ایس ایس جی کے کمانڈوز کو طلب کیا گیا۔
انہوں نے مین ڈور کے بجائے سائیڈ سے گھر میں راستہ بنا کر گھسنے کا فیصلہ کیا۔

جس کے بعد انہوں نے کامیابی سے پانچوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔

دہشت گردوں کے خلاف اس کاروائی میں دونوں طرف سے آر پی جی کے استعمال اور مسلسل فائرنگ کے نیتجے میں گھر میں کئی جگہ پر دراڑیں پڑ گئی تھیں۔

آپریشن کے بعد بارود یا ایکسپلوسیوز کی تلاش کی گئی تو وہاں کھڑی ایک موٹر سائیکل کی ٹینکی بارود سے بھری ہوئی ملی۔ کراس فائرنگے کے نیتجے میں موٹر سائیکل کی حالت ایسی تھی کہ بم ڈسپوزل سکواڈ نے اس کو چھیڑنا خطرناک قرار دیا۔




لہذا اس موٹر سائیکل کو اڑانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ مزید کسی کی جان نہ جائے۔ وہ موٹر سائیکل بہت بڑے دھماکے سے پھٹا اور پورے مکان کو بھی گرا دیا۔
اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس میں کس نوعیت کا بم فٹ تھا۔

مالک مکان نے یہ پورشن وہاں معمول کے کرائے سے دگنے پر دے رکھا تھا۔
اس کے پاس جمع کرائے گئے تمام کاغذات بھی جعلی نکلے۔

مالک مکان نے معمول سے دگنے کرائے پر گھر کیوں دیا؟ اور کاغذات کی تصدیق کیوں نہ کی؟ اس پر یقیناً تفتیش ہوگی!

پانچ انتہائی تربیت یافتہ اور جدید ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کو کسی سولین شہادت کے بغیر انجام تک پہنچانا پاک فوج، کے پی کے پولیس اور پاکستان کی کامیابی بڑی ہے۔ الحمد اللہ




واللہ اعلم افغانستان نے ان کو جس مشن پر بھیجا تھا وہ مکمل ہوتا تو یہ نہ جانے کتنے معصوم لوگوں کا خون بہاتے۔

پاک فوج اور کے پی کے پولیس کی اس کامیابی پر دانت چباتے کچھ بدنیت آپریشن پر عجیب و غریب قسم کے اعتراضات کرنے لگے ہیں شائد اس رپورٹ میں آپ کو ان کے جوابات مل گئے ہونگے۔

تحریر شاہدخان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں