940

نیوزی لینڈ حملے کے پیچھے چھپے اصل کردار

مساجد پر حملہ کرنے والا “برینٹ ٹیرنٹ” اتنا ذہنی مریض تھا کہ باقائدہ ہتھیاروں پر سو دو سو سال پرانے واقعات کو نہ صرف اچھی طرح جانتا تھا بلکہ ان واقعات کے سن تاریخ اور مکمل پس منظر سے بھی واقف تھا.

کمال ہے نہ!

پاگل اتنا تھا کہ ہتھیاروں پر اپنے جیسے ان تمام “ذہنی مریضوں” کے نام بھی لکھ کر آیا تھا جنہوں نے کچھ سال یا صدیاں پہلے صرف مسلمانوں کو ہی بےدردی سے قتل کیا.

غالبا انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے!




اور بیوقوف تو اتنا تھا کہ اپنے حملے کی فیس بک پر لائیو کوریج دکھاتا رہا تاکہ دنیا اسے نہ صرف دیکھے بلکہ اسے بھیجنے والے اسکے ماسٹرمائنڈ اس خون خرابے کی فلم سے خوب لطف اندوز ہوسکیں.

شاید بدلے میں کروڑوں ڈالرز کی ڈیل ہوچکی ہوگی بزریعہ ڈارک ویب وغیرہ!

اب زرا دیکھتے ہیں کہ یہ “ذہنی مریض” اپنے ہتھیاروں پر کیا کیا لکھ کر آیا تھا….ہتھیاروں پر لکھے نام اور واقعات کو ایک ترک چینل نے یوں بیان کیا ہے کہ؛

“Anton Lundin Pettersson”:
اینٹون لنڈن پیٹرسن ، یہ اس طالبعلم کا نام ہے جس نے سوئیڈن میں دو مہاجر طالبعلموں کو شہید کیا تھا۔




Alexandre Bissonnette:
الیگزینڈر بیسونیٹ نے 2017 میں کینیڈا میں ایک مسجد پر حملہ کرکے 6 لوگوں کو شہید کیا تھا۔

Skanderberg:
سکندربرگ البانیہ کے اس رہنما کا نام ہے جس نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت شروع کی تھی۔

Antonio Bragadin:
یہ وینس کے اس فوجی افسر کا نام ہے جس نے ایک معاہدے کی خلاف ورزی کی اور ترک مغویوں کو قتل کیا.

Charles Martel:
یہ اس فرنگی فوجی رہنما کا نام ہے جس نے “معرکہ بلاط الشہداء” میں مسلمانوں کو شکست دی تھی۔ اس معرکے میں اسپین میں قائم “خلافت بنو امیہ” کو فرنگیوں کی افواج کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی.

ویانا 1683:
1683 میں خلافت عثمانیہ نے دوسری مرتبہ ویانا کا محاصرہ کیا تھا۔

قارئین! ایک ذہنی مریض اتنا کچھ جانتا تھا…. تالیاں تو بنتی ہیں…. 👏

کرائس چرچ نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں 49 مسلمانوں کو شہید کرنے والے دہشتگرد کو حملے کے فورا بعد منصوبے کے عین مطابق عالمی صیہونی میڈیا نے “ذہنی مریض” قرار دیکر معاملے پر مٹی ڈالنی کی کوشش کی. پھر جب مسلمانوں نے عالمی میڈیا کا دوغلا پن دیکھا تو آڑے ہاتھوں لیا کہ حملہ گوروں پر ہوتا ہے تو مسلمانوں کو دہشت گرد لکھتے ہو اور اگر ایسا ہی حملہ مسلمانوں پر ہوتا ہے تو حملہ آور کو دہشتگرد کہنے کے بجائے مسلح حملہ آور یا “ذہنی مریض” کہہ کر معاملہ گول کردیتے ہو. عالمی صیہونی میڈیا کو جیسے ہی پوری دنیا نے آئینہ دکھایا اور اسکا دوغلاپن کھل کر بےنقاب ہونا شروع ہوا تو فورا حملہ آور کو دہشتگرد کہنا شروع کیا یہاں تک کہ اسکے بعد نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور برطانوی وزراءاعظم کو بھی مجبورا بیان دینا پڑا کہ جی ہاں یہ ہے دہشتگردی ہے.




ایک اور سوال حملہ آور نے “لائیو کوریج” کیوں نشر کی؟

کیونکہ جس الیومیناٹی فری میسن صیہونیوں نے اسے تربیت دیکر بھیجا تھا وہ سب اس کاروائی کو لائیو دیکھ کر لطف اندوز ہورہے تھے.

یہ سیدھا سادھا عالمی فری میسنری کا شیطانی کام ہے. یہ شیطان کی اولاد حرام زادے اتنے سفاک قاتل درندے ہوتے ہیں کہ انہیں لائیو خون ہوتے دیکھ کر بڑا مزا آتا ہے، یہ قتل عام دیکھ کر بہت لطف اندوز ہوتے ہیں، قتل عام اور ریپ لائیو دیکھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے. ڈارک نیٹ پر یہ روزانہ بولیاں لگاکر ایسے کھیل کھیلتے رہتے ہیں.

کبھی زینب جیسی بچیوں کے لائیو ریپ اور قتل دیکھ کر قاتل پر ڈالروں کی بارش کردیتے ہیں تو کبھی اپنے تیار کیے دہشتگرد بھیج کر مساجد و امام بارگاہوں پر اندھا دھند فائرنگ کرواکے انسانوں کے خون میں لتھڑے لاشے لائیو دیکھ کر اپنی شیطانی حوس پوری کرتے ہیں.

آپ نیوزی لینڈ حملے کو “اسلام فویہ” تو کہہ رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اسلام فوبیہ پھیلاتا کون ہے؟ یہ آپ کیوں بھول جاتے ہیں کہ عالمی صیہونی میڈیا ہی اسلام فوبیہ پھیلاتا ہے. لیکن پھر سوال آتا ہے کہ عالمی میڈیا کس کے حکم پر ایسا کرتا ہے؟ جواب ملتا ہے اپنے مالکان کے حکم پر. پھر سوال ہے مالکان کون ہیں؟ جواب ملتا ہے فری میسن، الیومیناٹی اور صیہونی.




تحریر : یاسررسول

نوٹ : یہ اسلام اور صیہونیت (یہودیت) کی اصل جنگ ہے، جو اسے سمجھ گیا وہ شاد رہے گا، جو نہ سمجھ سکا وہ بےموت مارا جائےگا… . لبیک اللہ لبیک…. لبیک الملحمۃ الکبرہ….

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں