719

کیا آپ جانتے ہیں انڈیا اس وقت اپنے دو جہازوں کا کتنا نقصان کر چکا ہے

کیا آپ جانتے ہیں انڈیا اس وقت اپنے دو جہازوں کا کتنا نقصان کر چکا ہے
1: ایس یو – 30 ایم کے آئی Su-30MKI
تخمینہ لاگت : 2 کروڑ 50 لاکھ امریکن ڈالر
پاکستان کرانیسی کے مطابق : 3 ارب 46 کروڑ
2: ایم آئ جی 21 ایف ایل MiG-21FL
تخمینہ لاگت : 2 کروڑ امریکن ڈالر
پاکستان کرانیسی کے مطابق : 2 ارب 77 کروڑ
دونوں کو ملا کر قریباً 6 ارب 23 کروڑ کا نقصان ہوا




اور یہ نقصان پاکستان اور چائنہ کے اپنی مدد آپ کے تحت بنے ہوئے جہاز JF-17 سے کیا گیا جو کہ دونوں ممالک نے F-16 Falcon کے مقابلے میں بنایا ہے یاد رہے جی ایف سیونٹین تھنڈر 4th جنریشن کی ایڈوانس ٹیکنالوجی کا بنایا گیا ہے جو کہ زمینی اور فضائی دونوں حملوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے ایسے پاک چین نے تب بنانے کا منصوبہ بنایا جب امریکہ نے پاکستان اور چین کو F-16 جہاز دینے سے انکار کر دیا جبکہ امریکہ ان F-16 جہازوں کی 650 ملین ڈالر قیمت پہلے ہی وصول کر چکا تھا جی ایف سیونٹین تھنڈر کو تین قسم کے Block میں تقسیم کیا گیا ہے
JF-17
JF-17s
JF-17B
پہلے دو قسم کے جہاز پاکستان کے ایر فورس میں بطور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت سے استعمال ہو رہے ہیں جبکہ JF-17B پر ابھی کام جاری ہے جو کہ 4.5 جنریشن سے بھی ایڈوانس ٹیکنالوجی کے ساتھ لیس بنایا جا رہا ہے، اب تک 4.5 جنریشن کے جہاز دنیا میں سب سے جدید ٹیکنالوجی کے بنے ہوئے ہیں جو کہ صرف امریکہ اور روس کے پاس ہیں۔




جے ایف سیونٹین تھنڈر ایس JF-17s جہاز میں Gsh-23-2 دو بیرل اور Autocannon جیسے بھاری وزن کے میزائل اور ایف سولہ جیسے وزنی پے لوڈ ایک ساتھ لے جانے کی صلاحیت موجود ہے اور جدید مزائل جو کہ ریڈار نشانے سے داغے جاتے ہیں یعنی اگر جہاز کو کئی میل دور نظر نا آنے پر بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے

عالمی سطح پر JF-17 Thunder خریدنے والے ممالک میں ایران، جورڈن، ترکی، نائجیریا اور دوسرے ممالک شامل ہیں کیونکہ یہ جہاز کم لاگت پر F-16 جہاز کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے بھارت اور پاکستان کے جوابی کارروائی میں اس کے استعمال نے عالمی سطح پر مزید پزیرائی حاصل کی ہے جس سے F-16 کی بجائے JF-17 Thunder کی خریداری میں مزید اضافہ ہوگا جس سے دونوں دوست ممالک بہترین معاشی فائدہ اٹھا سکتے ہیں

نوٹ : انڈیا اس لیے تو چیخ رہا تھا کہ پاکستان نے ان کے جہاز گرانے کے لئیے F-16 جہاز کا استعمال کیا ہے جبکہ جے ایف سیونٹین تھنڈر میں وہ تمام صلاحیت موجود ہیں جو F-16 جہاز میں پائے جاتے ہیں۔




(اس طرح پاکستان اور چین اپنے جہاز بنانے میں خودمختار ہو گئے ہیں اور اب ان دونوں ممالک کو کسی کے منتے کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نا ہی امریکن جیٹ طیاروں کی خریداری کے لئے ان کے شرائط ماننے پڑیں گے بلکہ امریکہ اب چیخ کر رو رہا ہے کہ پاکستان اور چین نے ایڈوانس ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر لی ہے الحمداللہ)

کاپی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں