230

یہ جنگ ہم جیت گئے ہیں تحریر شبیر بونیری

ہندوستان عجیب انسانوں کی سرزمین ہے ۔ آپ اندازہ لگالیں یہ خود کو دنیا کی بڑی جمہوریت کہتے ہیں لیکن نکمے پَن میں ان سے ذیادہ آگے پوری دنیا میں کوئی نہیں ۔ یہ باقی دنیا کے انسانوں کو ورطہ حیرت میں بڑی آسانی سے ڈال دیتے ہیں ۔ آپ کو اگر ان کی کج فہمیوں اور غلط روشوں کا اندازہ لگانا ہو تو آپ

کو ان کے تین بڑی قوتوں کا مطالعہ کرنا ہوگا ۔

ان کی سیاست اور عوام ،ان کی فوج اور ان کی میڈیا ۔ یہ دنیا کا واحد تکون ہے جہاں تکون کے کونوں کو ایک دوسرے کا بالکل پتہ نہیں۔ رابطوں کا شدید فقدان کی وجہ سے یہ جھولتا تکون کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ۔ یہ وہ واحد تکون ہے جہاں تینوں کونوں پر موجود قوتیں ہر روز کوئی نہ کوئی ایسا لطیفہ پوری دنیا کے انسانوں کے سامنے رکھ دیتی ہے اور پوری دنیا ہنس ہنس کے پاگل ہوجاتی ہے ۔




جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہ لڑی جاتی ہیں اور نہ جیتی جاتی ہیں ۔ جنگوں کے لئے ایک پھرپور تیاری کی ضرورت ہوتی ہے جس میں سفارتکاری ،سیاسی بالغ الںظری ،عوامی طاقت اور سپورٹ اور فوج کی تجربہ کاری اور سب سے بڑھ کر جذبہ ہوتا ہے اور الحمداللہ ہم ان چیزوں میں دنیا کی نام نہاد جمہوریت پر بازی لے گئے ہیں ۔

آپ اگر اس جنگ کی حقیقیت اور خلاصہ قبل از وقت دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ ہندوستانی تکون کی جھولتی پوزیشن دیکھ لیجیئے اور پھر چند لمحوں کے لئے سوچ لیجیئے کیا مذکورہ بالا ضرورتیں وہ پوری کرچکے ہیں ۔ مجھے یقین ہے آپ کا جواب نہیں میں ہوگا اور پھر میری طرح آپ بھی اطمینان سے بیٹھ کر خوش ہورہے ہونگے کہ اللہ کا لاکھ شکر اور احسان ہے کہ ہم دنیا کی وہ منفرد قوم ہیں جو قوم کی تشخص پر اچانک سب کچھ بھلا کر ایک ہوجاتے ہیں اور یہی ایک ہونے کا موقع ہمیشہ ہمیں ہمارا دشمن دیتا ہے ۔




آپ اس عجیب و غریب تکون کا اندازہ لگالیجیئے جس میں سیاست اور عوام ، فوج اور میڈیا شامل ہے ۔ ان کی سیاست دنیا کی واحد سیاست ہے جس میں نہ سفارت کاری کے تجربات ہیں اور نہ سیاسی تجربوں کے حاصل فائدے ۔ آپ غور کریں نریندر مودی نے ایک سفاک قاتل کے طور پر دنیا میں اپنی پہچان کرائی اور دنیا کی اس نام نہاد بڑی جمہوریت نے اس قاتل کو اپنا وزیر اعظم بنالیا ۔ اُس کی چھال ڈھال اور بحیثیت حکمران تمام باتیں اس زمانے میں بالکل موزون نہیں ہیں ۔ وقت انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ یہی نریندر مودی اگر آج سے ایک ہزار سال پہلے ہندوستان کے سینا پتی کے طور پر ابھرتا تو تو شائد کچھ نہ کچھ فائدہ اس بڑی جمہوریت کو دے پاتا لیکن اُس کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ایسے وقت میں ہندوستان کا وزیر اعظم بنا ہے جس میں اس کے سامنے پاکستان ایک ابھرتی طاقت کے طور پر موجود ہے ۔

وہ جتنی بڑی جمہوریت کا بادشاہ ہے اسی طرح کی بڑی غلط فہمی میں بھی مبتلا ہے ۔ بی جے پی میں ہندوستان کے سینئیر ترین سیاستدان ہیں لیکن صبح اٹھ کر گائے کے پیشاب سے منہ دھو کر ان کی عقل شائد دماغ کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پوری سیاست ہندوستان میں ایک بے کار انسان کے ہاتھوں خراب ہورہی ہے اور ہندوستان خود ایک بہت بڑا لطیفہ بننے جارہا ہے ۔




آپ دیکھ لیں مودی 26 فروری کو کوشش کرتا ہے کہ پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک دیں ۔ خود کو باراک حسین اوباما ثابت کرنے کی ایک ناکام کوشش کرکے ایل ای ڈی سکرین کے سامنے بیٹھ جاتا ہے اور اس تکون کی دوسری قوت میڈیا یہ باور کراتا ہے کہ سپر مین خود ہندوستانی فوج کی کاروائی دیکھ رہا ہے ۔ دوسری طرف سمجھدار لوگوں کا ایک بڑا ٹولہ ہنس ہنس کے پاگل بن جاتا ہے کہ یہ کیا پاگل پن ہے ۔

ایک ہی لمحے میں پاکستان کو ترنوالہ ثابت کیا گیا ۔ بات یہاں نہیں رکتی اپوزیشن اور دوسری تمام کمیونیٹیز ناکام مودی کو وقت کا چنگیز خان گرادنتی ہے اور پوری قوم ڈھول کی تھاپ پر رقص شروع کردیتی ہے ۔ سنجیدہ سیاستدانوں کو یا تو بزور شمشمیر خاموش کرادیا جاتا ہے یا وہ خود مصلحت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔




تکون کی اسی سرے پر عوام کا بھی اندازہ لگا لیجیئے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو آج بھی ساتھ عشرے گزرنے کے باوجود سسک سسک کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ آج بھی ایک اعشاریہ دو بلین لوگ لیٹرین کی سہولت سے محروم ہیں ۔ یہ آج بھی کھلی ہوا میں رفعہ حاجت کرتے ہیں ۔ یہ غریب پاگل پن کا اس حد تک شکار ہوچکے ہیں کہ ان کے پاس کھانے کو روٹی نہیں پہننے کو کپڑا نہیں لیکن جنگ کے لئے یہ تیار ہوجاتے ہیں ۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے نریندر مودی نے اپنی پوری حکومت کے دوران تکون کے اس “لاچار طاقت” کے لئے کچھ نہیں کیا اور اسی شرم کو چھپانے کی خاطر یہ ان کو داؤ پر لگانے پر اتر آیا ہے ۔

آپ اس تکون کے دوسرے کونے پر موجود بے لگام میڈیا کو دیکھ لیجیئے ۔ جھوٹ اور گمراہ کن خبروں میں پوری دنیا ہندوستان کی میڈیا پر طنز کی تیر برسارہی ہے ۔ آپ یقین کریں پاکستان میں لاکھوں ایسے لوگ ہیں جو صرف مزاق اڑانے اور قہقہے لگانے کی خاطر ان کی میڈیا چینلز کے سامنے بیٹھتے ہیں ۔ یہ اس تکون کا سب سے خطرناک کونا ہے ۔ اسی میڈیا نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو داؤ پر لگانے کی قسم کھائی ہے ۔ آپ کو یقین نہیں آتا تو آج ہی رجت شرما اور اس جیسے دوسرے صحافیوں کی سنجیدگی کا اندازہ لگا کر دیکھ لیں ۔ اس میڈیا نے ہندوستان کے عوام کو یہ باور تک کرایا ہے کہ پاکستان پر ہمارا قبضہ ہوچکا ہے بس فارمیلیٹیز باقی ہیں ۔




اب آپ اس تکون کے آخری طاقت کو دیکھ لیجیئے جو سب سے کمزور اور دوسروں کی اشاروں پر بغیر تحقیق ناچنے والی طاقت ہے ۔ ہندوستان کی جنونیت اور پاگل پن کا سب سے بڑا خمیازہ اس کمزور طاقت کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ آپ تحقیق کرکے دیکھ لیجیئے اسی طاقت کو شراب کے نشے میں دھت جنگ کے لئے بھیجا جاتا ہے اور پھر ان کو خود یہ پتا نہیں ہوتا کہ ہم کو کس جرم کی سزا مل گئی ۔ ہندوستانی فوج یقیناً ایک کمزور طاقت ہے کیونکہ آج تک ساتھ عشرے گزرنے کے باوجود ان کو،شبیر شاہ ، محبوبہ مفتی ، میر واعظ عمر فاروق، یٰسین ملک اور بوڑھےسید عی گیلانی کو قابو میں لانے کی ترکیب سمجھ میں نہیں آئی ۔

آپ خود دیکھ لیں حالات سے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے مودی سرکار تکون کے اس آخری سرے پر موجود کمزور طاقت کو سبق سکھانے پر اتر آئی ہے ۔

جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں اور جنگیں نسلوں کا تباہ و برباد کردیتی ہے لیکن تاریخ گواہ رہے گی کہ پاکستانی قوم پر یہ جنگ مسلط کی گئی ہے اور مودی سرکار کی جنونیت ہی کی وجہ سے خطے کا امن داؤ پر لگا ہے ۔ اللہ پاکستان اور پاکستانی قوم کی حفاظت فرمائیں اور پاکستانی افواج کو اس جنگ میں طاقت سے نوازے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں