گھریلو ملازمہ عظمی کیس 409

بڑے گھروں کے گھٹیا لوگ، گھریلو ملازمہ عظمی کی اصل کہانی

یہ وہ خاندان ہے جنہوں نے اپنی گھریلو ملازمہ 16 سالہ عظمی کو قتل کیا جرم یہ تھا کہ اس نے مالکن کی پلیٹ سے کھانے کا ایک لقمہ کھایا تھا جس پر انہیں قتل کرکے قریبی نالے میں پھینک دیا ساتھ میں تھانے میں جھوٹی ایف آئ آر بھی درج کرائی کہ گھریلو ملازمہ عظمی نے چوری کرکے گھر سے بھاگ گئ ہے..

یہ ہے ہماری اشرافیہ کی اصلیت جو حرام خوری چوری اور کرپشن سے مال بناکر پھر کیسے غریب ملازموں پر تشدد کرتے ہے یہ واقعہ پہلی بار نہیں ہوا ہے ایسے بہت سارے واقعات ہوئے جس میں چھوٹی سے غلطی پر ملازموں کا قتل کیا گیا ہے.
اس عورت کو نہ صرف پھانسی دی جائے بلکہ انکے شوہر کو بھی ساتھ میں عمر قید بامشقت کی سزا دی جائے.




ڈی ایس پی اقبال ٹاؤن عبدالغفور نے بتایا کہ لاہور کی رہائشی ماہ رخ کے گھر میں کام کرنیوالی عظمیٰ نے مالکن کی بیٹی کی پلیٹ سے سالن لیا، جس پر ماہ رخ طیش میں آگئی اور اسٹیل کا برتن اٹھا کر اس کے سر پر دے مارا، جس سے لڑکی کی موت واقع ہوگئی۔

ایس پی انویسٹی گیشن شازیہ سرور کا کہنا ہے کہ ملزمان نے مقتولہ کی لاش گٹر میں پھینکی اور چوری کا الزام لگا کر اس کے ورثاء کو بھی تھانے بلوالیا، ایک دن بعد لاش ملی تو گھناؤنے جرم کا پردہ چاک ہوگیا۔




عظمیٰ کے اہل خانہ کے مطابق ان کی بیٹی پر پہلے بھی تشدد کیا جاتا رہا۔ پولیس نے تفتیش مکمل کرنے کے بعد ملزمان کو جیل بھجوادیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ مقدمے کا چالان جلد عدالت میں پیش کردیا جائے گا

گھریلو ملازمہ عظمی کیس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں