قطر طالبان عمران خان امریکہ

عمران خان کا دورہ قطر کے دو مقاصد

قطر میں طالبان امریکا کے درمیان 6 روز سے جاری مذاکرات اختتام پذیر ہو گئے۔ مذاکرات میں 17 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے پر معاہدہ طے پا گیا۔

افغان طالبان ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدے میں 18 ماہ کے اندر افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا پر اتفاق کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق طالبان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا خطے کے دوسرے ممالک سے تحفظ کی یقین دہانی کروا دیتا ہے تو جنگ بندی ہوسکتی ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق جنگ بندی کے ليے آیندہ چند روز ميں شيڈول طے کر ليا جائے گا، جنگ بندی کے بعد طالبان افغان حکومت سے براہ راست بات کریں گے۔




یاد رہے کہ یہ مذاکرات دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر میں ہو رہے تھے ۔ ایک طرف اِن مذاکرات کی سربراہی افغان نژاد زلمے خلیل زاد کر رہے تھے جن کو امریکہ کی جانب سے افغان امور کے مشیرِ خاص قرار دیا گیا ہے۔ دوسری طرف طالبان کے سینیئر کمانڈر ملا عبدالغنی برادر تھے جو کہ آٹھ سال پاکستان میں قید رہنے کے بعد گذشتہ اکتوبر میں رہا کیے گئے۔

خطے میں امن کی بحالی کے لیے یہ بہت بڑی کامیابی ہے اس سارے معاملے میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑی ہے یہ کامیاب مذکرات یوں سمجھیں کرتار پور بارڈر کی طرح دوسرا باونسر ہے جو بھارت کے منہ پر جاکے لگا ہے بھارت کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان اپنی مغربی سرحدوں پر الجھا رہے

امریکہ اور طالبان کے درمیان مذکرات میں اس بات کو سامنے لایا گیا کہ امریکی اسلحہ افغانستان کے حوالے کیا جائے گا واپس لے جایا جائے گا ادھر ہی تباہ کردیا جائے گا لیکن امریکہ کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ واپسی اسلحہ لے جاسکے

آج امریکہ یہ وہی امریکہ ہے جس نے افغان جنگ ہی طالبان کے خاتمے کے لیے کی تھی لیکن افغانستان سے روس کی طرح امریکہ ہی پسپا ہو کر جارہا ہے۔ اس سارے مذکراتی عمل میں پاکستان کا کردار اہم رہا ہے جس میں موجودہ حکومت نے اس ڈیڈلاک کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس میں وزیر اعظم عمران خان کا دور قطر اہم ثابت ہوا

تحریر: عبدالجبار دریشک





قطر طالبان عمران خان امریکہ

اپنا تبصرہ بھیجیں