شبیر بونیری 274

امن و آتشی کا دور شروع ہوا ۔ مبارک ہو

امن و آتشی کا دور شروع ہوا ۔ مبارک ہو تحریر شبیر بونیری

آخرکار پاکستان کی سرزمین پر امن و آتشی کا دور شروع ہوا ۔ہمیں داد دینی پڑے گی پنجاب پولیس کو جو عالمی دنیا کو مطلوب سب سے بڑے دہشت گرد کو گولیوں سے بھوند دیا  ۔ ہم نے روز ازل سے پاکستان کے ان دلیر سپوتوں کو داد دی ہے کیونکہ یہی سپوت پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے قریب رہتے ہیں اور ان  ہی کی وجہ سے  ہم سکون کی نیند سوتے ہیں ۔ان جانبازوں کو دیکھ کر تاریخ میں پہلی بار گھوڑوں کی پیٹھ پر بیٹھے وہ جان نثار جنہوں نے ہمیشہ ظالم کی آنکھیں نوچ ڈالی یادوں سے محو ہوگئے ہیں کیونکہ ان کی جگہ اب پنجاب پولیس کے “مجاہدین” تاریخ کے صفحوں میں آگئے ہیں ۔۔

 کتنا سکون ملا ہوگا نا ان شتر بے مہاروں کو ۔




اس آپریشن کے بعد یقینا” گھر جا کر اپنے بچوں کو بانہوں میں لے کر خوب چوما ہوگا ۔ بچوں نے بھی اپنے بہادر والدین پر معصوم محبت کی انتہاء کردی ہوگی ۔ شام کی تاریکیوں میں کھانے کی میز پر ان شتر بے مہار جانبازوں نے خوب پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہوگا اور پھر اس ٹھٹھرتی سردی میں رات کو اپنے بچوں کو سینوں سے لگا کر لمبی تھان کر سوئے ہونگے ۔۔۔۔

اب یہ تصویر کے دو رخ ہی بن جاتے ہیں ۔ ایک طرف کھرب ہے اور دوسری طرف راحت ہی راحت اور ان دو رخوں کے بیچ ایک پوری قوم زندگی گزار رہی ہے ۔

پںجاب کے یہ جانثار روز ازل سے ہی باولے کتوں کی طرح اسی طرح ہی معصوموں پر جھپٹ پڑتے ہیں اور ہمیشہ حکومت وقت اسی طرح صدمے سے دوچار تماش بین بن جاتی ہے ۔ ہمیں یاد ہے مظلوموں کی داد رسی کرنے والا مدینے کی ریاست کا خلیفہ پچھلے چھ سال سے ظلم اور ظالم کے خلاف برسرپیکار ہے لیکن شائد اس کرسی کی جادوگری میں اتنا کمال ہے کہ یہ انسانوں سے انسانی خون ہی نچوڑ لیتی ہے اور پھر وہی انسان نما جانور ہی انسانی معاملات چلاتے ہیں ۔۔

آپ المیہ ملاحضہ کیجیئے ۔ بزدار صاحب ہسپتال جاتے ہیں تو یہ تاثر ابھرتا ہے گویا کوئی رشتہ دار دل کا دورہ پڑنے سے ہسپتال میں پڑا ہوا ہے لیکن شائد ان کو سامنے بستر پر پڑا تھکا ماندہ معصوم دہشت گرد جو محو خواب تھا نظر نہیں آرہا تھا ۔۔ مجھے تو لگ ایسا رہا ہے کہ ریاست مدینہ کے اس بزگ سیاستدان نے اس تھکے ماندے دہشت گرد کو جگایا بھی ہوگا اور حیرانی یہ ہے کہ  اپنے ساتھ پھولوں کا گلدستہ لے کر گئے اور اپنے ساتھ ایک عدد فوٹوگرافر  بھی تاکہ یہ ثابت ہو کہ وہ بھی تو اوروں کی طرح درد سے گزرے ہیں  ۔

ہم پوری قوم مظلوم ہیں اور اسی مظلوم قوم کی نظریں مایوسی کے اس عالم میں ” خلیفہ وقت ” پر تھی لیکن وہ بے چارا صدمے سے نڈھال ہیں اور خود کسی معتصم باللہ کے انتظار میں ہے ۔۔




سراج الحق صاحب بھی ہسپتال گئے اور معصوم دہشت گرد کو بوسہ دیا جس کی وجہ ضرور مرکزی شوری کے اجلاس میں جنت کی خوش خبری اس کو مل چکی ہوگی ۔۔ جنت دوزخ کے اس کھیل میں ایک پوری ہنستی بستی دنیا لٹ گئی لیکن سالار کارواں کو اب بھی پرائے خون کی شدید ضرورت ہے ۔ مولانہ صاحب کا تو کچھ پتہ ہی نہیں شاید 73 کی آئین کے تناظر میں یہاں مصلحت ازحد ضروری ہے ۔۔ حکمران وقت صدمے میں ہیں اور سیاستدانوں کو فوٹو سیشنز سے فرصت نہیں مل رہی اب ایسے میں ہم کیا کریں ۔میں تو سمجھتا ہوں کیوں نہ پورے پاکستان کے عوام یا تو مکمل سیاست ،جمہوریت اور ووٹ کے اس سراب کو ہمیشہ کے لئے ختم کریں اور اگر  یہ بھی نہیں کرسکتے تو چلو مل کر بانوے ورلڈکپ کا فائنل دوبارہ دیکھ کر ہی کچھ سکون حاصل کرلیں ۔

شبیر بونیری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں