232

انڈس ہائی وے پر مرنے والوں کا قاتل کون ؟

دہشت گرد انڈس ہائی وے یا وقت کے حاکم

شیر شاہ سوری نے اپنی سلطنت میں درخت کاٹنے پر پابندیاں عائد کررکھی تھی اگر کوئی شخص درخت کاٹتا تو اسے باقاعدہ طور پر اجازت نامہ لینا پڑتا تھا شیر شاہ سوری کے دور میں ایک شخص کا قتل ہو گیا ایک بڑھیا اپنے قتل ہونے والے بیٹے کی فریاد لے کر انصاف کے لیے شیر شاہ سوری کی دربار میں پیش ہوئی اور شیر شاہ سوری سے انصاف کی اپیل کرنے لگی۔

بوڑھیا نے کہا تم کیسے حکمران ہو تمہارے ملک میں درخت کاٹنے پر پابندی ہے لیکن کسی انسان کو کاٹ کر قتل کر دیا جاتا ہے تو اس کے قاتل پکڑے نہیں جاتے۔ بوڑھیا کی بات نے شیر شاہ سوری کے دل پر بڑا گہرا اثر چھوڑا شیر شاہ سوری نے بوڑھیا سے وعدہ کیا کہ وہ چند دن میں تمہارے بیٹے کے قاتل کو گرفتار کرکے اسے تمہاری آنکھوں کے سامنے پھانسی پر لٹکائے گا




شیر شاہ سوری ایک دن اسی علاقے میں روپ بدل کر چلا گیا جہاں بوڑھیا کے بیٹے کا قتل ہوا تھا، وہاں جاکر شیرشاہ سوری نے درخت کاٹنا شروع کر دیا تو شخص نے شیر شاہ سوری کو درخت کاٹتے دیکھ لیا تو اس نے جاکر یہ بات شہر کے شقدار کو بتادی شقدار نے اپنے سپاہی بھجواکر درخت کاٹنے والے کو گرفتار کروا لیا جب شیر شاہ سوری کو اسی شقدار کے دربار میں پیش کیا گیا توا شیر شاہ سوری نے اس شخص کے دربار میں اپنا اصلی روپ ظاہر کردیا۔

شیر شاہ سوری نے اس شقدار سے کہا تمہیں درخت کٹنے کی خبر تو ہو گئی لیکن ایک انسان کی گردن کٹ گئی اور تم اس سے بے خبر رہے۔ میں اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ تین دن کے اندر اند ر قاتل کو پیش کرو ورنہ سزا میں تم قتل کر دیئے جاؤ گے۔ معتبروں کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا اور تیسرے دن کا سورج ابھی طلوع بھی نہ ہوا تھا کہ قاتل شاہی دربار کے دروازے پر زنجیر و سلاسل میں جکڑے ہوئے حاضر تھا۔

اب ایک ہمارے حکمران ہیں انہیں ٹی وی سے یہ تو پتہ چل جاتا ہے کہ ڈالر کا ریٹ بڑھ گیا ہے ، انہیں زوجہ محترمہ کہتی ہیں وہ وزیراعظم ہیں، انہیں زرداری کے بیانات کا بھی پتہ چل جاتا ۔ ایوزیشن میں کیا کھچڑی پک رہی انہیں یہ بھی پتہ ہوتا ہے




اگر کچھ نہیں پتہ ہوتا تو وہ ہے راجن پور میں ہر روز انڈس ہائی وے پر حادثات میں مرنے والے لوگوں کا۔ آپ کوآج 17 جنوری 2019 کو سکول سے واپسی آنے بچوں کی موت کا بھی پتہ نہیں ہوگا کہ یہ بھی اس قاتل روڈ کا شکار ہو گئے ہیں

عبدالجبار دریشک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں