Smoking in buner 197

بونیر میں بڑھتا ہوا نشے کا رجحان – تحریر شبیر بونیری

ضلع بونیر خیبر پختون خواہ کا ایک پسماندہ ضلع ہے ۔ یہاں پر تقریبا آٹھ لاکھ نفوس کی آبادی ہے اور  پورے ملک کی طرح یہاں بھی اکثریت نوجوانوں کی ہے ۔ نوجوان کسی بھی قوم میں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں ۔ اقوام عالم کی تاریخ اور ترقی کے راز اگر  دیکھے جائیں تو اس کے پیچے نوجوانوں ہی کی شبانہ روز محنت نظر آئی گی ۔ اقبال کی محبت کا بھی کتنا مشکل پیمانہ ہے اپنی محبت ان نوجوانوں کے پلڑے میں ڈال دی جو ستاروں پر ک مندیں ڈالتے ہیں ۔آسمان کے  تارے ہم سے بہت دور ہیں ان پر کمند ڈالنا تو دور کی بات ہے یہاں پر تو زمین پر رینگتے چیوینٹیوں کو لڑانا اور تنگ کرنا نوجوانوں کا مشغلہ بن گیا ہے ۔ نوجوان طبقہ کسی بھی زندہ قوم کا سرمایہ افتخار ہوتا ہے ۔ یہ علم وعمل کے میدان میں ہو تو فارابی ،رومی ،راضی  یا البیرونی بن جاتے ہیں۔ میدان جنگ میں ہو تو سلطان محمد فاتح ،صلاح الدین ایوبی ،یا طارق بن ذیاد بن جاتے ہیں ۔ تبلیغ کے میدان میں ہو تو ذاکر نائیک , ابو محمد خالد یاسین یا نعمان علی خان بن جاتے ہیں ۔یہ نوجوان علم و عمل ،تبلیغ اور جہاد کے میدان میں نہ ہو تو پھر یہ قوموں پر بوجھ بن جاتے ہیں ۔ بدقسمتی سے  آج کا ہمارا نوجوان بھی ان تمام چیزوں سے کوسوں دور ہے۔

اس کے پیچھے جتنے بھی عوامل کارفرما ہیں وہ اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب نظر آرہے ہیں ۔ خوش قسمتی ہماری یہ ہے کہ ہمارے ملک میں چونسٹھ فی صد نوجوان بستے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اکثریت کے پاس زندگی کا کوئی خاص مقصد نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا نوجوان طبقہ پوری طرح مس گائیڈڈ ہے ۔ یہ نوجوان ہی ہوتا ہے جوقوموں کے تقدیر بنانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے  ۔ نوجوانوں کے ہاتھ میں اگر علم کی بتی اور کتاب دی جائے تو یہ فخر کا باعث بنتے ہیں لیکن یہی کتاب اور علم اگر ان سے چھن جائے تو قوموں کے قافلے دن دیہاڑے لٹ جاتے ہیں ۔ خیبر پختون خواہ کے دوسرے اضلاع کی طرح ضلع بونیر میں بھی اگر نوجوانوں کی موجودہ حالت دیکھی جائے تو دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ یہاں کے نوجوان ان تمام سہولیات سے محروم ہیں جو آگے بڑھنے کے لئے پوری دنیا میں نوجوانوں کو مہیا کئے جاتے ہیں۔




تعلیمی ضروریات کے لئے پرائیویٹ سکولز اور گورنمنٹ سکولز کے علاوہ یہاں ہائیر سیکنڈریز اور ڈگری کالجز بھی ہیں لیکن شائد نوجوانوں کی اکثریت پر ان کا کنٹرول نہیں ورنہ جہاں تعلیمی ادارے فنکشنل ہو وہاں ٹیلنٹ کا بحران کھبی نہیں آتا ۔  ایک یونیورسٹی بھی ہے جو کہ ابھی نئی ہے لیکن وہاں بھی پرانے روایتی تدریسی انداز میں نوجوانوں کو پڑھایا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ضلع کے ذیادہ تر طالب علم صوبے کے دوسری یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہیں ۔ اچھا ہوتا اگر یہاں کے نوجوانوں کے رجحانات میں مثبت سرگرمیاں ہوتی اور ارباب اختیار ان نوجوانوں کے لئے ایسے مواقع پیدا کرتے جن کی وجہ سے ان کی شخصیت میں نکھار آجاتا اور ان کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ بونیر میں نوجوانوں کی اکثریت نشے کی عادی بن چکی ہے ۔

نشہ ایک لت ہے اور انسان کو جب اس لت کی عادت پڑ جاتی ہے تو اپنے پرائے کی پہچان ختم ہوجاتی ہے ۔ ضلع بونیر میں یہ لت روز بروز بڑھ رہی ہے اور اولیاء کرام کے تجلیوں سے بھرپور یہ  زمین چرس ،آئس ،شراب اور دوسرے نشہ آور چیزوں کا گویا مرکز بن گیا ہے ۔ نوجوان فخر کے ساتھ نشہ آور چیزوں کا استعمال کرتے ہیں اور اپنے ساتھ اس لت میں دوسرے نوجوانوں کو شریک بھی بنا لیتے ہیں ۔ ان نشہ آور نوجوانوں کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے اور جو اقتدار کی گدی پر بیٹھے ہیں ان کے لئے   اپنے مفادات کا حصول ہی اہم ہے ۔




نوجوانوں میں  سب سے ذیادہ آئس کا استعمال عام ہوچکا ہے ۔آئس کی  تاریخ بھی بڑی عجیب ہے ۔ کہتے ہیں اس کو ایجاد جرمنی نے کیا تھا اور دوسری جنگ عظیم میں جاپان اور مخالف فوجی جب یہ نشہ کرلیتے  تو ہفتوں وہ نیند سے دور رہتے اور ان کو ان تمام سختیوں کا اندازہ نہیں ہوتا جو عام زندگی میں انسان کو کوئی بھی مشکل کام کرنے میں ہوتا ہے ۔ خاص طور پر جو پائلٹ کسی ایسے مہم میں شریک ہوتے جو جان لیوا ثابت ہوتا تو ان کو آئس کا نشہ دیا جاتا۔

اس نشے کی جب لت پڑ جاتی ہے تو پھر بہت سے ایسے نفسیاتی بیماریاں انسان کے گلے پڑ جاتی ہیں جن سے چھٹکارا زندگی سے چھٹکارے کے برابر ہوتا ہے ۔ شک کی بیماری جو تمام یماریوں کی جڑ ہے یہ بھی آئس استعمال کرنے والوں میں موجود ہوتی ہے ۔ انسومنیا کی جو بیماری ہے وہ بھی اسی لت کی وجہ سے آتی ہیں جس میں یا تو انسان بہت دنوں سوتا رہتا ہے اور یا جاگتا رہتا ہے ۔   بونیر میں ایسے بہت سے گاوں ہیں جہاں آئس کا بے تحاشہ استعمال ہورہا ہے جیسے ایلئے ،انغاپور، ریگا ،تورورسک ،پیربابااور چملہ کے علاقے جہاں نوجوان اس لت کےعادی بن چکے ہیں بالخصوص ایلئے تو نشہ آور لوگوں اور چیزوں کا گڑھ بن چکا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ضلع انتظامیہ کیا کر رہی ہے اور یہ چیزیں آتی کہاں سے ہیں ۔ تورخم کے راستے ان تمام چیزوں کی ترسیل ہوتی ہیں اور پھر یہ پورے صوبے میں پھیل جاتی ہیں۔

ایک نوجوان سے میری بات ہوئی جس کا تعلق ایلئے گاوں سے ہے اس نے اپنی ایک تنظیم بھی بنائی ہے جس کا نام “خادم خلق” ہے اور جس نے اپنی طرف سے اس مسئلے کے حل کے لئے کافی تگ و دو بھی کی ہے اور ضلع انتظامیہ سے بھی کئی بار ملا ہے لیکن کوئی حوصلہ افزا جواب جب نہ ملا تو نہ چاہتے ہوئے بھی وہ مایوس ہوا اور ابھی تک کسی نجات دہندہ کے انتظار میں ہے ۔ اس کے علاوہ چرس کا استعمال بھی حد سے ذیادہ ہے اور جو اس نشے کے عادی ہیں وہ تیرہ سے پندرہ سال تک کے بچوں کو بھی عادی بنا رہے ہیں ۔ جس گاوں کا میں نے تزکرہ کیا( ایلئے) یہاں ذیادہ تر سٹوڈنٹس چرس کے عادی ہیں اور ذہنی طور پر بہت سے نوجوان چرس کی وجہ سے خراب بھی ہوچکے ہیں ۔




باجکٹہ ،کلیاڑی ،ایلئے ،انغاپور ،تورورسک ،پیربابا ،ریگا اور چملہ میں جب رات کی تاریکیاں چھا جاتی ہیں تو نوجوان چرس کے لمبے لمبے کش لیکر خود کو برباد کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ ضلع انتظامیہ رات کو شائد سو رہی ہوتی ہے اور یہ نوجوان پتہ نہیں اور کیا کیا کر رہے ہوتے ہیں ۔ یہ نشہ آور نوجوان ڈاکے بھی ڈالتے ہیں یہ لوگوں کو تنگ بھی کرتے ہیں اور سب سے بڑی بات ان کے اپنے گھر والے ان سے چھٹکارا پانے کی آرزو لئے صرف بد دعاوں سے کام چلارہے ہیں ۔

یہ مخصوص طبقہ ایک لابی کی طرح اپنے ساتھ دوسرے نوجوانوں کو جب شامل کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تو ان کی بہت خاطر مدارت کرتے ہیں ان کو چرس کی سپلائی روازنہ مفت میں کرتے ہیں اور اس وقت یہ ان کے لئے استاد بھی بن جاتے ہیں اور خیر خواہ بھی ۔ المیہ یہ ہے کہ ایسے ایسے بچے بھی ہیں جن کو دیکھ کر گود میں لینے کو جی چاہتا ہے لیکن ان کے ہاتھوں میں چرس کا سگریٹ دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ چرس اور آئس کے علاوہ شراب کا استعمال بھی گاہے بگاہے ہورہا ہے اور نوجوان ہی شراب کے عادی بن رہے ہیں ۔ ان نازک گلوں کے حلق  سے جب شراب کے گھونٹ اندر جاتے ہیں تو وہ قیامت کے لمحات ہوتے ہیں ۔

کف افسوس ملنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ ہمارا معاشرہ دن بہ دن بگاڑ کی طرف گامزن ہے ۔ یہ جو رشتوں کی پامالی روز کا معمول بن گئی ہے ۔ یہ جو روز چھوٹی چھوٹی باتوں پر برسوں کے دوست اور رشتہ دار دشمن بن جاتے ہیں ۔ یہ بلا وجہ نہیں اس کے پییچھے موجود محرکات ہی اصل میں نقصان کا باعث بن رہے ہیں ۔ بونیر کے ارباب اختیار  چاہے وہ پولیس ہو ،ضلع انتظامیہ ہو ،سیاست دان ہو یا ضلع کے دوسرے وہ لوگ جو جرگوں میں بیٹھتے ہیں ان کو چاہیئے اس مسئلے کے اوپر عملی اقدامات اٹھائے ۔ سیمینارز اور باتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ باتوں کی جگہ عملی اقدامات اٹھانے ہی سے مسائل حل ہوتے ہیں۔

ضلع انتظامیہ کو چاہیئے کہ ان تمام لوگوں کو انجام تک پہنچائے جو ان نشہ آور چیزوں کی سپلائی کرتے ہیں اور اس میں کسی بھی سیاست دان یا بااثر شخصیت کو خاطر میں نہ لائے  ۔ وہ نوجوان جو نشے کے عادی ہیں ان کو پکڑ کر ان کے والدین سے بات کرنی چاہیئے ۔ وہ راہ راست پر آئے تو ٹھیک ورنہ مستقل ان کو جیل میں ڈال دینا چاہیئے ۔ آخری قدم جو ضلع انتظامیہ کو اٹھانا چاہیئے وہ نشے کے خلاف آگاہی مہم ہے ۔ ہر گاوں کی سطح پر یہ آگاہی مہم ہونی چاہیئیے اور ان بزرگوں سے بات کرکے ان کی حوصل افزائی کرنی چاہیئے جو سینے میں نوجوان طبقے کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔ یہ مسئلہ فوری طور پر اگر قابو میں نہ آیا توِ” بونیر گل د نمیر ”  کی بجائے کہیں” ٹک د لنڈے دم د خامار ” ہی ہماری پہچان نہ بن جائے ۔

Smoking in buner

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں