نیا پاکستان اور صوبہ جنوبی پنجاب محاذ

نیا پاکستان اور صوبہ جنوبی پنجاب محاذ، تحریر: اسد محمود

تحریر: اسد محمود
پرانے دور کی بات ہے کہ کسی ملک کا یہ قانون تھا کہ وہاں کا بادشاہ اس ملک پر ایک سال حکومت کرتا تھا اور ایک سال حکومت کرنے کے بعد وہاں کی عوام اسے دور دراز کے جنگل میں چھوڑ آنے کے بعد نیا بادشاہ منتخب کرلیتے تھے اور یوں یہ ملک اپنے وکھرے قوانین کی بدولت اپن مثال آپ تھا۔ سال کا اختتام ہوا تو عوام بادشاہ کے محل کے گرد جمع ہونا شروع ہو گئی اور بادشاہ کو ایک بہترین لباس پہنا ئے ہاتھی پر بٹھا کر شہر کا الوداعی چکرلگوانے لگے اور دن ڈھلتے ہی جنگل کی طرف روانہ ہو گئے ۔ بادشاہ کو جنگل میں چھوڑنے کے بعد جیسے ہی وہ واپس آنے لگے تو سمندر کے کنارے کچھ دیر قبل ٹکرا کر تباہ ہونے والے جہاز سے ایک نوجوان کو کھڑکی سے لٹکتا ہوا دیکھا۔ وہ اس کے پاس گئے اور اسے نکال کر شہر کی طرف لے آئے ۔ سب نے ملک کر فیصلہ کیا کہ اس نوجوان کو نیا بادشاہ بناتے ہیں اور یوں انہوں نے تباہ حال جہاز سے ملنے والے اس نوجوان کو اپنے قوانین کے بارے میں بتایا کہ ٹھیک ایک سال بعد اسے پچھلے بادشاہ کی طرح جنگل میں چھوڑ دیا جائے گا۔ اس نوجوان نے شروع میں تو انکار کیا مگر عوام کے لگاتار اسرار پر بالآخر مان گیا اور وہ یہ منصب سنبھال کر اس سلطنت کا نیا بادشاہ گیا۔

بادشاہ بننے کے بعد اس کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ ٹھیک ایک سال بعد اس کا بھی وہی انجام ہونا ہے جو اس سے پہلا کا ہوا تھا۔ اس نے اپنے خاص وزیروں کو بلایا اور حکم دیا کہ وہ اس جنگل کو دیکھنا چاہتا ہے جہاں سال بعد اسے چھوڑ دیا جائے گا۔ بادشاہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایک قافلہ تیار ہوا اور جنگل کی طرف روانہ ہو گئے ۔ وہاں پہنچ کر بادشاہ نے دیکھا کہ جنگل کافی گھنا ہونے کے ساتھ کافی خطرناک بھی ہے جہاں سے خوفناک جانوروں کی آوازیں سننے کو مل رہی تھیں۔جنگل میں داخل ہوتے ہی چند قدم کے فاصلے پر اس نے دیکھا کہ انسانی کھوپڑیاں پڑی ہیں بادشاہ کے معلوم کرنے پر اسے بتایا گیا کہ یہ پچھلے بادشاہوں کی ہیں جو اپنے اقتدار کا عرصہ پورا ہونے کے بعد اس جنگل میں چھوڑ دیے گئے تھے۔ بادشاہ نے تھوڑی دیر وہاں گزارنے کے بعد واپسی کا فیصلہ کیا۔




شہر پہنچتے ہی بادشاہ نے یہ حکم دیا کہ یہاں کے طاقتور جسم کے حامل افراد کی ایک لیبر تیار کر کے اس جنگل کی طرف روانہ کی جائے اور جنگل کے گھنے درخت کو کاٹ دیا جائے اور وہاں کے خطرناک جانوروں کو مار دیا جائے۔ بادشاہ کے پاس اختیار تھا اس لیے رعایا نے حکم کی تعمیل بجا لاتے ہوئے جنگل کا رخ کیا اوردو سے تین ماہ کے عرصے میں وہاں سے کافی درخت کاٹ کر خطرناک جانوروں کو مار دیا۔ اب بادشاہ نے وزیروں کو حکم دیا کہ ایک شاندار گھر تعمیر کرایا جائے اور اس جزیرے پر ایک بڑی سی بندرہ گاہ بنائیں ۔گزرتے مہنیوں کے ساتھ ساتھ وہ جزیرہ ایک خوبصورت شہر کی شکل اختیار کر گیا۔ وہ نوجوان سادہ لباس زیب تن کر تا اور اپنی ذات پر کم خرچ کرتا۔ اپنی بادشاہت کی زیادہ کمائی وہ جزیرے کو بنانے میں لگاتارہتا ۔ دس ماہ گزر جانے کے بعد بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا “میں جانتا ہوں کہ دو مہینے بعد مجھے جزیرے میں چھوڑ دیا جائے گا لیکن میں ابھی سے وہاں جانا چاہتا ہوں ۔
‘وزیر اور دوسرے وزراء ا س بات پر متفق نہ ہوئے اور بادشاہ سے کہا کہ آپ کے دو ماہ رہتے ہیں آپ وہ مکمل کرکے اپنا ایک سال پورا کریں ۔ آخر کار سال پورا ہونے کے بعد حسب روایت وہاں کے لوگوں نے بادشاہ کو شاندار لباس پہنایا اور ہاتھی پر بٹھایا تاکہ وہ اپنی رعایا کو خیرباد کہہ سکے ۔ بادشاہ یہ سب منظر دیکھ کر بھی خوش دکھائی دے رہا تھا۔ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ پچھلے بادشاہ تو یہ سب دیکھ کر روتے تھے آپ کیوں اتنے خوش دکھائی دے رہے ہیں۔

نوجوان بادشاہ نے جواب دیا کہ ‘ ‘تم لوگوں نے دانا کا قول شاید نہیں سنا کہ جب تم ایک چھوٹے بچے کی صورت میں اس دنیا میں آتے ہو تو تم رو رہے ہوتے اور باقی لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں۔ ایسی زندگی جیو کہ جب تم مرو تو تم ہنس رہے ہو اور باقی دنیا رو رہی ہو۔ میں نے ایسی زندگی گزاری ہے جس وقت تمام بادشاہ محل کی رنگینیوں میں کھوئے ہوئے تھے تو میں اس وقت اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا تھااب میرا جو اگلا ٹھکانہ ہے میں اپنی باقی زندگی وہاں رہ کر سکون سے گزار سکوں گا۔

بادشاہ کی یہ کہانی دراصل موجودہ حکمرانوں کے لیے ایک سبق ہے ہے کہ غریب عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کربادشاہت کی کرسیاں سنبھالنے والے اس دورانیے کو عیاشیوں میں گزارنا ہے یا اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے پاکستان کے صوبے پنجاب کے ایک بڑے حصے جنوبی پنجاب کی سیاست پر نظر دوڑائیں تووہاں کی عوام ہر آمدہ انتخابات میں ایک نئی امید کے ساتھ تبدیلی کانعرہ لگاتے ہیں مگر حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد عوامی سروے کے نتائج میں مایوسی کا گراف برتری پر نظر آتا ہے سال 2013ء کے عام انتخابات کی بات کریں تو جس طرح وہاں کی عوام نے نئے صوبے کے نعرے کو دفن کر تے ہوئے ایک کامل یقین کے ساتھ یکجہتی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے برسراقتدار آنے والے جماعت کا ساتھ دیا تھا ان کا یہ یقین قابل دید تھا۔ مگر اس حکومت کے مدت پورا کرنے کے بعد جب جنوبی پنجاب کی عوامی رائے دیکھی گئی تو” تخت لاہور حساب دو” کے نعروں کی گونج سنائی دی گئی اور جنوبی پنجاب کے بجٹ کا زیادہ حصہ تخت لاہور پر خرچ کرنے کے الزامات کے ساتھ اعلان بغاوت بلند ہوا۔ اس اعلان بغاوت کے ساتھ جنوبی پنجاب کی سیاست کی تاریخ بدلتی ہوئی نظر آئی اور ایک نئی تبدیلی کی راہ تکنے لگی۔




عوام کی اس بدلتی ہوئے رائے اور تبدیلی کے نعرے کو پرکھتے ہوئے جنوبی پنجاب کے سیاستدان مخدو م خسرو بختیار نے عوام کی ہاں میں ہاں ملا کرجنوبی پنجاب کی تمام تر محرومیاں کا ذمہ داراس دور کی حکمران حکومت کو ٹھہرا کر احتجاج کرتے ہوئے عوام کے سامنے اپنا استعفیٰ یہ کہہ کر رکھ دیا کہ حکومتی سربراہان کو متعدد بار ان کے ڈیمانڈ کرنے کے باجود جنوبی پنجاب کو جان بوجھ کر نظراندار کیا گیا اس لیے وہ مزید اس حکومت کا حصہ نہیں بن سکتے۔ مخدوم خسرو بختیار نے وہاں کی عوامی رائے کا باریک بینی سے جائزہ لیکر بزرگ سیاسی شخصیت میر بلخ شیر مزاری کے ساتھ مل کر نئے صوبے کا نعرہ بلند کر دیا۔ خسرو بختیار اپنی اس بہترین سیاسی حکمت عملی کی بدولت جنوبی پنجاب کی عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اس نئی سیاسی زندگی میں جھنڈے پر درج کئے گئے ان کے نعرے جنوبی پنجاب کی عوام کے لیے الگ صوبے کا ہر صورت میں قیام اور وہاں کی محرومیوں کو دور کرنے کا عزم کیا گیا۔ اس محاذکے قیام کے وقت خسرو بختیار کا ساتھ بزرگ سیاستدان میر بلخ شیر مزاری دمت دیگر کئی اہم رہنماؤں نے بھی دیا جن میں سردار نصر اللہ خان دریشک، باسط سلطان بخاری، طاہر بشیر چیمہ ، رانا قاسم نون، طاہر اقبال چوہدری، چوہدری سمیع اللہ وغیرہ شامل تھے۔ ان تمام رہنماؤں سے مشاورت کے بعد مخدوم خسروبختیار سے اس وقت کی مقبول جماعت تحریک انصاف نے بیک ڈور رابطے شروع کر دیے اور صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کو نئے صوبے کی یقین دہانی کے ساتھ وہاں کی محرومیاں دور کرنے کا یقین دلاتے ہوئے اعتماد میں لینے میں کامیاب ہو گئی اور اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران صوبہ جنوبی پنجاب محازکا تحریک انصاف میں انضمام کر لیا۔

الیکشن 2018ء کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف کامیاب قرار پائی اور جنوبی پنجاب کی عوام معاہدے کے مطابق پہلے 100دنوں میں قیام کا خواب دیکھنے لگی ۔مگر 100دن مکمل ہونے کے بعد جب تحریک انصاف سے ان کے 100دنوں کے منشور میں شامل صوبہ جنوبی پنجاب کا ذکر کیا گیا تو ان کے باقی وعدوں کی طرح اس کا جواب بھی یہی آیا کہ ہمیں ایک ایسی حالت میں ملک ملا کہ جس کو ٹھیک کرنے کے لیے 100دن کافی نہیں اور اتنے عرصے میں صرف سمت کا تعین ہی ہو سکتا ہے ۔ حکمران جماعت کی طرف سے ان سو دنوں کے کارکرگردگی میں جہاں باقی وعدوں کا جواب سمت کا تعین ملا وہاں صوبہ جنوبی پنجاب کے لیے بھی انگریزی کا لفظ same here استعمال ہوتا دکھائی دیا۔ کہ اس عرصے میں صوبہ بنانے کی سمت کا تعین ہوا۔ حکومت کے اس جواب کے بعد یہی اندازہ لگا کہ وہاں کی باشعور عوام نے سمت کے تعین کے جواب پر بھی حامی بھر ی اور اپنے منتخب کردہ نمائندگان کی طرف ایک بار پھر آس لگا کر بیٹھ گئے کہ وہ ان سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے اس علاقے کی محرومیوں کو دور کرنے اور نئے صوبے کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ مگر یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ کیا جنوبی پنجاب کی عوام سے کئے گئے وعدوں کے جواب دہ وہاں کی عوام کے ووٹوں سے منتخب کئے گئے نمائندگان ہیں یا مستقبل میں حکومت سے بھی اس نعرے کا جواب مانگا جائے گا۔ تو تمام اطراف کا چکر لگانے کے بعدگھوم پھر کا یہی جواب سامن آا رہا اگر وہا ں کے عوامی نمائندوں کا احتساب ہو گا تو حکومت بھی اس وعدہ خلافی کی ضد میں آئے گی۔حکمران جماعت کے پاس وقت ہے کہ وہ اس بات کی نشاندہی کریں کہ آخر وہاں کی عوام الگ صوبے کے قیام کو ہی حرف آخر کیوں کہہ رہے ہیں کونسی ایسی زیادتیاں ہیں جن سے دلبرداشتہ ہو کر وہ الگ صوبے کا قیام چاہتے ہیں یہ سارا پریشر وہاں کے منتخب نمائندوں پر ڈالنا حکومت کے لیے عقلمندی کی بات نہ ہوگی۔صوبہ جنوبی پنجاب محاز کا انضمام تحریک انصاف کی کامیابی کا ایک اہم سنگ میل تھا اور اگر وہاں کی عوام کو اعتماد میں نہ لیا گیا تو اگلے انتخابات میں جہاں صوبہ جنوبی پنجاب محاز کے رہنماؤں کی سیاست پر برے اثرات مرتب ہوں گے وہاں حکمران جاعت سے بھی عددی اکثریت چھن جانے کے قوی امکانات روشن ہو جائیں گے۔ اس کا بہتر حل تو یہی ہو گا کہ حکومت کو جلد از جلد جنوبی پنجاب کے مسائل کی نشاندہی کے ایک ٹاسک فورس بنانی چاہیے جو وہاں کے مسائل کی نشاندہی کرے اور حکومت ان پسماندہ علاقوں کی محرومیوں کا فوری ازالہ کرے۔ اگر حکومت ہنگامی بنیادوں پر یہ اقدامات کرے تو نئے صوبے کے قیام میں کچھ عرصے کا وقت لیکر وہاں کی عوام کا اعتماد لینے میں کامیاب ہو سکتی ہے ورنہ جنوبی پنجاب کی نمائندگی کرنے کئی اپوزیشن رہنماء تیار بیٹھے ہیں جو انہیں تبدیلی کے جھوٹے دعووں کے طعنے دے کرحکومت کو ٹف ٹائم دلوا سکتے ہیں۔تاریخ میں پہلی بار برسراقتدار آنے والی اس جماعت تحریک انصاف کے درپیش دیگر اہم مسائل کے ساتھ نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ بھی ایک بڑاچیلنج ہے اوراس چیلنج سے نمٹنے کا واحد حل یہی نظر جلد سے جلد وہاں کی عوام کو اعتماد میں لینا ہے ورنہ حکمران جماعت کے ساتھ ساتھ ان کے اتحادیوں کی سیاست بھی جنوبی پنجاب جیسے پسماندہ علاقوں میں اس بادشاہ کی طرح ہمیشہ کے لیے جنگل میں دفن ہو سکتی ہے۔۔
ہوئی نظر آئی اور ایک نئی تبدیلی کی راہ تکنے لگی۔




عوام کی اس بدلتی ہوئے رائے اور تبدیلی کے نعرے کو پرکھتے ہوئے جنوبی پنجاب کے سیاستدان مخدو م خسرو بختیار نے عوام کی ہاں میں ہاں ملا کرجنوبی پنجاب کی تمام تر محرومیاں کا ذمہ داراس دور کی حکمران حکومت کو ٹھہرا کر احتجاج کرتے ہوئے عوام کے سامنے اپنا استعفیٰ یہ کہہ کر رکھ دیا کہ حکومتی سربراہان کو متعدد بار ان کے ڈیمانڈ کرنے کے باجود جنوبی پنجاب کو جان بوجھ کر نظراندار کیا گیا اس لیے وہ مزید اس حکومت کا حصہ نہیں بن سکتے۔ مخدوم خسرو بختیار نے وہاں کی عوامی رائے کا باریک بینی سے جائزہ لیکر بزرگ سیاسی شخصیت میر بلخ شیر مزاری کے ساتھ مل کر نئے صوبے کا نعرہ بلند کر دیا۔ خسرو بختیار اپنی اس بہترین سیاسی حکمت عملی کی بدولت جنوبی پنجاب کی عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اس نئی سیاسی زندگی میں جھنڈے پر درج کئے گئے ان کے نعرے جنوبی پنجاب کی عوام کے لیے الگ صوبے کا ہر صورت میں قیام اور وہاں کی محرومیوں کو دور کرنے کا عزم کیا گیا۔ اس محاذکے قیام کے وقت خسرو بختیار کا ساتھ بزرگ سیاستدان میر بلخ شیر مزاری دمت دیگر کئی اہم رہنماؤں نے بھی دیا جن میں سردار نصر اللہ خان دریشک، باسط سلطان بخاری، طاہر بشیر چیمہ ، رانا قاسم نون، طاہر اقبال چوہدری، چوہدری سمیع اللہ وغیرہ شامل تھے۔ ان تمام رہنماؤں سے مشاورت کے بعد مخدوم خسروبختیار سے اس وقت کی مقبول جماعت تحریک انصاف نے بیک ڈور رابطے شروع کر دیے اور صوبہ جنوبی پنجاب محاذ کو نئے صوبے کی یقین دہانی کے ساتھ وہاں کی محرومیاں دور کرنے کا یقین دلاتے ہوئے اعتماد میں لینے میں کامیاب ہو گئی اور اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران صوبہ جنوبی پنجاب محازکا تحریک انصاف میں انضمام کر لیا۔

الیکشن 2018ء کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف کامیاب قرار پائی اور جنوبی پنجاب کی عوام معاہدے کے مطابق پہلے 100دنوں میں قیام کا خواب دیکھنے لگی ۔مگر 100دن مکمل ہونے کے بعد جب تحریک انصاف سے ان کے 100دنوں کے منشور میں شامل صوبہ جنوبی پنجاب کا ذکر کیا گیا تو ان کے باقی وعدوں کی طرح اس کا جواب بھی یہی آیا کہ ہمیں ایک ایسی حالت میں ملک ملا کہ جس کو ٹھیک کرنے کے لیے 100دن کافی نہیں اور اتنے عرصے میں صرف سمت کا تعین ہی ہو سکتا ہے ۔ حکمران جماعت کی طرف سے ان سو دنوں کے کارکرگردگی میں جہاں باقی وعدوں کا جواب سمت کا تعین ملا وہاں صوبہ جنوبی پنجاب کے لیے بھی انگریزی کا لفظ same here استعمال ہوتا دکھائی دیا۔ کہ اس عرصے میں صوبہ بنانے کی سمت کا تعین ہوا۔ حکومت کے اس جواب کے بعد یہی اندازہ لگا کہ وہاں کی باشعور عوام نے سمت کے تعین کے جواب پر بھی حامی بھر ی اور اپنے منتخب کردہ نمائندگان کی طرف ایک بار پھر آس لگا کر بیٹھ گئے کہ وہ ان سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے اس علاقے کی محرومیوں کو دور کرنے اور نئے صوبے کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ مگر یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ کیا جنوبی پنجاب کی عوام سے کئے گئے وعدوں کے جواب دہ وہاں کی عوام کے ووٹوں سے منتخب کئے گئے نمائندگان ہیں یا مستقبل میں حکومت سے بھی اس نعرے کا جواب مانگا جائے گا۔ تو تمام اطراف کا چکر لگانے کے بعدگھوم پھر کا یہی جواب سامن آا رہا اگر وہا ں کے عوامی نمائندوں کا احتساب ہو گا تو حکومت بھی اس وعدہ خلافی کی ضد میں آئے گی۔حکمران جماعت کے پاس وقت ہے کہ وہ اس بات کی نشاندہی کریں کہ آخر وہاں کی عوام الگ صوبے کے قیام کو ہی حرف آخر کیوں کہہ رہے ہیں کونسی ایسی زیادتیاں ہیں جن سے دلبرداشتہ ہو کر وہ الگ صوبے کا قیام چاہتے ہیں یہ سارا پریشر وہاں کے منتخب نمائندوں پر ڈالنا حکومت کے لیے عقلمندی کی بات نہ ہوگی۔صوبہ جنوبی پنجاب محاز کا انضمام تحریک انصاف کی کامیابی کا ایک اہم سنگ میل تھا اور اگر وہاں کی عوام کو اعتماد میں نہ لیا گیا تو اگلے انتخابات میں جہاں صوبہ جنوبی پنجاب محاز کے رہنماؤں کی سیاست پر برے اثرات مرتب ہوں گے وہاں حکمران جاعت سے بھی عددی اکثریت چھن جانے کے قوی امکانات روشن ہو جائیں گے۔ اس کا بہتر حل تو یہی ہو گا کہ حکومت کو جلد از جلد جنوبی پنجاب کے مسائل کی نشاندہی کے ایک ٹاسک فورس بنانی چاہیے جو وہاں کے مسائل کی نشاندہی کرے اور حکومت ان پسماندہ علاقوں کی محرومیوں کا فوری ازالہ کرے۔ اگر حکومت ہنگامی بنیادوں پر یہ اقدامات کرے تو نئے صوبے کے قیام میں کچھ عرصے کا وقت لیکر وہاں کی عوام کا اعتماد لینے میں کامیاب ہو سکتی ہے ورنہ جنوبی پنجاب کی نمائندگی کرنے کئی اپوزیشن رہنماء تیار بیٹھے ہیں جو انہیں تبدیلی کے جھوٹے دعووں کے طعنے دے کرحکومت کو ٹف ٹائم دلوا سکتے ہیں۔تاریخ میں پہلی بار برسراقتدار آنے والی اس جماعت تحریک انصاف کے درپیش دیگر اہم مسائل کے ساتھ نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ بھی ایک بڑاچیلنج ہے اوراس چیلنج سے نمٹنے کا واحد حل یہی نظر جلد سے جلد وہاں کی عوام کو اعتماد میں لینا ہے ورنہ حکمران جماعت کے ساتھ ساتھ ان کے اتحادیوں کی سیاست بھی جنوبی پنجاب جیسے پسماندہ علاقوں میں اس بادشاہ کی طرح ہمیشہ کے لیے جنگل میں دفن ہو سکتی ہے۔

نیا پاکستان اور صوبہ جنوبی پنجاب محاذ

اپنا تبصرہ بھیجیں