اسد محمود 184

انسانی حقوق اور عالمی تنظیمیں، تحریر: اسد محمود

تحریر: اسد محمود
کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسان حقوق کے لحاظ سے برابری کے حق دار ہیں کسی بھی خطے یا معاشرے میں انسانی اخلاقیات اور قدرتی طور پر سماجی عوامل کا مضبوط ہونا ضروری ہے ہر انسان انصاف، امن، محبت اور خوشی کا طلب گار ہوتا ہے ۔ ناانصافی، نفرت ، بد امنی اور غربت کو برا سمجھتا ہے دراصل معاشرے میں تمام قوانین اور ضابطے اس لیے بنائے جاتے ہیں کہ انسانوں کو انصاف، امن اور خوشحالی نصیب ہو ۔ بد امنی ، ظلم و جبر اور ناانصافی کو جڑسے اکھاڑ پھینکا جائے اور یہی انسانی حقوق کہلاتے ہیں

چند روز قبل مجھے دو سے تین تقریبات کے دعوت نامے موصول ہوئے جس میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کرنے کے لیے مدعو کیا گیا ۔ انسانی حقوق کے عالمی دن کو منانے کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ اس سیارے پر موجود تمام انسان اپنے حقوق کے لحاظ سے برابری کے حقدار ہیں۔ کوئی بھی ریاست عوام کو ان کے حقوق کا شعوردیے بغیر ، حقوق کے تحفظ کا اہل بنائے بغیر اور اپنے حقوق کے لیے احتجاج کا حق دیے بغیر انسانی حقوق کی حقیقی معنوں میں ضمانت فراہم نہیں کر سکتی ۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی متعلقہ محکمے جن میں محکمہ انسانی حقوق پاکستان، ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان ، تحفظ حقوق انسانی ایسوسی ایشن پاکستان و دیگر اداروں کی طرف سے انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے تقریبات منعقد کی گئیں ۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی اس دن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کروا کر اپنی کارکردگیوں کے میڈلز وصول کیے اوردنیا کے سامنے خود کو متحرک ثابت کروا کر داد سمیٹی ۔




مگر تصویر کا دوسرا رخ یہاں انسانی حقوق کے معنوں کی نفی کر تا نظر آرہا ہے سب کے لیے برابری کی سطح کے حقوق کا نعرہ بلند کرنے والی ان تنظیموں کو اپنی دوربین میں جنوبی ایشیاء میں کشمیر اور مشرق وسطیٰ میں فلسطین نظر کیوں نہیں آتا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم ہزاروں زندگیوں کے چراغ بجھا چکے ہیں ۔ گمنام قبروں کی دریافت، خواتین کی عصمت دری، حق خودارادیت مانگنے والے کشمیریوں پر ظلم پہاڑ گرائے جا رہے ہیں ۔ لاپتہ افراد ، آدھ بیوعورتیں ، یتیم بچے کیا یہ انسان نہیں ہیں ۔۔ اگر ہیں تو ان کے حقوق کی حق تلفیوں کے ذمہ دار کون ہیں ۔۔؟ حقوق انسانی کمیشن کے اعتراف کے باوجود کہ وادی میں 38مقامات پر دو ہزار سے زائد افراد اجتماعی قبروں میں دفن ہیں 2000ء سے 2008ء تک مقامی اداروں کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر میں ایسی درجنوں اجتماعی قبریں موجود ہیں ۔ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بلا امتیاز قتل عام ، پیلٹ گنز کا استعمال سے بینائی ضائع کرنا ، اجتماعی قبروں کے کیسز اور جنسی تشدد انسانیت کے خلاف سنگین جرائم ہیں ۔ مشرق وسطیٰ کی بات کریں تو فلسطین میں جاری اسرائیلی بربریت پر دنیا کی خاموشی صیہونی مظالم کے مترادف ہے جہاں 2014ء کے اسرائیلی حملوں قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ سینکڑوں اسکولز ، کالجز اور کئی نرسریاں تباہ ہوئیں اور ان میں سے زیادہ تر عمارتوں کی مرمت دوبارہ نہ ہو پائی۔ ہزاروں کی تعداد میں بے گھر ہونے والے افراد کے لیے جہاں رہائش، تعلیم اور طبی سہولتوں کا فقدان نظر آیا وہاں ان کو خوراک کے حصول کے لیے بھی مشکلات درپیش رہیں عورتوں ، بچوں اور بڑھوں نے کھلے آسمان تلے فاقوں میں کئی کئی دن گزاردیے ۔

کشمیر اور فلسطین کے نہتے مسلمان کیا انسان نہیں ہیں۔۔ ؟ اگر یہ انسان ہیں تو انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اپنے اس نعرے کی پاسداری کرتی نظر کیوں نہیں آتی جس کے مطابق سب انسان برابری کے حقوق کے حقدار ہیں ۔ بھارت اور اسرائیلی مظالم کا شکار یہ بے بس لوگ انسانی حقوق کی ان عالمی تنظیموں کی طرف سسکتی آہوں اورتر آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں بھارت اور اسرائیل ان تنظیموں اور عالمی طاقتوں کے شکنجوں سے باہر ہیں تو پھر یہ انسانی حقوق کی علمبردار ان تنظیموں کی یہ پھرتیاں پھر کس لیے ہیں اور اگر ان مظلوموں پر آئے روز ڈھائے جانے والے مظالم ان کی دوربین کی رینج سے دور ہیں تو پھر ان کو میرا سلام۔

اسد محمود




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں