ظلم سہتے ہوئے گزری زندگی 157

ظلم سہتے ہوئے گزری زندگی، تحریر شہباز علی عباسی

تحریر: شہباز علی عباسی
انسان فطری پر مدنیت پسند ہے اور اسی فطری تقاضے کے باعث انسان نے جنگلوں سے نکل کر آبادیوں میں بسیرا کیا اور اپنے طرز حیات کو ایک ایسے ڈگر پر ڈالا جو بعدازاں دن بدن ترقی کے زینے طے کرتے ہوئے ستاروں پر کمندیں ڈالنے لگا جوں جوں انسان آگے بڑھا کائنات کے اطراف و اکناف میں پھیلنا شروع ہوگیا تو اس پھیلاؤ کا اثر یہ ہوا کہ مختلف علاقوں ، مختلف زبانوں، رسوم و رواج اور تہذیب و ثقافت کی تفریق کے سبب انسان اپنا ایک مخصوص تشخص رکھتا جو اس کی پہچان کا باعث بنتا تھا۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ سلطنت اور حکومت کے زاویے بدل گئے اور قومیں، ملکوں اور جغرافیائی سرحدوں میں بندہو کر رہ گئیں۔

اس وقت پوری دنیا میں انسان اور انسانی بقا کے لیے طرح طرح کے انتظامات اور معاہدے کیے جارہے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی اقوام متحدہ کا عالمی منشور بھی ہے۔ جو 10دسمبر1948 کو پیرس کے مقام پر منظور کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے ارکان کی تعداد 193 ہے۔ تقریباً تمام تسلیم شدہ ملکوں میں سے ایک ویٹیکن سٹی ایسا ملک ہے جو اقوام متحدہ کا رکن نہیں ہے، مگر اسے خصوصی حیثیت حاصل ہے کہ جب چاہے اپنی مرضی سے رکنیت لے سکتا ہے۔ ان تمام ممالک کے مابین جن نکات پر اتفاق ہے اور اسے اقوام متحدہ کا منشور قرار دیا گیا ہے وہ تین ہیں۔
1۔ امن و سلامتی
2۔ انسانی حقوق
3۔ ترقی
اسی منظور کے تحت اس سپریم کونسل میں تمام ممالک شامل ہوئے جو اس بات کی ضامن ہے کہ کرۂ ارضی پر امن و سلامتی، انسانی حقوق اور ترقی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے اور اگر کوئی ریاست، ملک یا گروہ ان بنیادی انسانی حقوق کے خلاف اقدامات کرے گا تو یہ عالمی جرگہ اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائے گا۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ بھارت جیسا ملک جو اقوام متحدہ کا رکن بھی ہے اور اس عالمی منشور کی بھی تائید و حمایت کرتا ہے مگر تأسف کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ پچھلے ستر سالوں سے نہ صرف انسانی حقوق کا استحصال کررہا ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں اس نے بندوق کی نوک پر کئی نوجوانوں کو شہید کیا بلکہ دہشت گردی کا ایک نہ ختم ہونے والا بازار گرم کررکھا ہے۔




31دسمبر 2011 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 93712 کشمیری باشندوں کو اس وقت تک شہید کیا جا چکا ہے۔ 105936 مکینوں کو بے گھر کیا گیا۔ 107434 بچے یتیم ہوئے۔ 10019 خواتین کی عصمت دری کی گئی اور 22762 خواتین اپنے سہاگ سے ہاتھ دھو بیٹھیں اس قسم کی دیگر رپورٹس آئے دن شائع ہوتی رہتی ہیں۔ مگر انسانی حقوق کے دعویدار نہ صرف خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں بلکہ ظالم کے ہاتھ مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ حالانکہ تقسیم ہند کے وقت وائسرے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا تھا کہ اگر کسی ریاست کی بھارت یا پاکستان میں شمولیت پر تنازع پیدا ہوا تو وہاں کے عوام کی رائے لی جائے گی جو فیصلہ عوام کریں گے وہی قابل قبول ہوگا۔

آج 70برس بعد بھی کشمیریوں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت نہیں بلکہ اگر کوئی زبان حریت اور حق خودارادیت کا نعرہ لگائے تو نہ صرف زیر عتاب آتا ہے بلکہ برہان وانی تامنان وانی کی طرح سطح زمین کا باسی ہو چلتا ہے۔ مگر اقوام متحدہ بھی خاموش اور انسانی حقوق کے علمبردار بھی خواب خرگوش میں محو تو اس صورت میں کشمیریوں کی زندگیاں ظلم سہنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں لیکن اقوام متحدہ کا نعرہ انسانی حقوق زندہ باد۔

ظلم سہتے ہوئے گزری زندگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں