سوشل میڈیا اور ہم 232

سوشل میڈیااور ہم – تحریر: محمد پرویز بونیری

سوشل میڈیااورہم
تحریر محمد پرویز بونیری

کیازبردست اورکمال کی قوم ہےہم پاکستانی بھی۔۔ہماری زندگی کے کئی پہلوں اورکئی رنگ ہیں، ہرپہلوقابل ذکر اورہررنگ قابل دید ہے۔اگر پہلوبدلنے میں ہم بے مثال ہیں توپہلوتہی کرنے میں ہماراجواب نہیں۔۔۔۔اوررنگ ایسے کہ بدلنے پہ آئے توگرگٹ اورلینے میں خربوزے سےکم نہیں۔ایک مدت سے سوشل میڈیاپرہماری زندگی کے مختلف پہلوں اورمختلف رنگوں کی مختلف انداز میں خوب تشہیرہوتی ہے بلکہ تذلیل ہوتی ہے اورستم بالائےستم یہ کہ ہم خودسوشل میڈیاپراپنی ہی بیوقوفی اورتذلیل سے خوب محظوظ ہوتے ہیں بلکہ ایسے ہی اپناغازرہ رخساراوروجہ افتخارسمجھتے ہیں۔

اپنے ہی پرائیویٹ زندگی کے چھپے ہوئے ان گوشوں کو ہم نے دنیاکے سامنے ظاہرکیااوراپنے کردارکے ان کے پہلوںکوننگاکردیا، جودنیاکے سامنے ہماری شرمندگی کاباعث بنتی جارہی ہیں ۔لسانی بنیادوں پرایک دوسرے کی تذلیل ہمارامرغوب مشغلہ ہے اورایک دوسرے کے خلاف ایسے گٹھیاں ، بیہودہ اورشرارت آمیز لطیفے شیئرکرتے ہیں جو آپس باعث نفرت اورہماری قومی حیثیت ختم کرنے کاسبب بنتے ہیں۔




پوراپورادن کرکٹ کے میچ دیکھنے کے لئے ہمارے بچے، جوان اوراب توماشاء اللہ بوڑھے بھی اس کام میں کسی سے پیچھے نہیں رہیں، ۔۔ٹیلی وژن کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں۔۔اورچیختے چلاتے رہتے ہیں، بچوں کی بیچ میں سے ایک آدھ آوازامیرصاحب کی بھی نکل آرہی ہے، جو اپنی بڑی داڑھی اورسفید پگڑی کے ساتھ کبھی کبھی جذبات پر قابورکھنے میں یکسرناکام ہوجاتاہےاورساتھ ساتھ مولوی صاحب بھی ایک تکیہ پربراجماں میچ کے آخری لمحات میں دنیاومافیہاسے کوسوں دورہاراورجیت کے فلسفے پرغورکررہاہے جبکہ اسکے مقتدی مسجدمیں نمازپڑھانے کےلئے انتظارمیں ہیں۔

گیندکی حرکت اورکیمرے کے مناظرکے ساتھ ساتھ مولوی صاحب بھی کروٹیں بدلتاہے، جبکہ داداجان جوبغیرعینک کے اپنے پوتوں اورمحلے کے بچوں میں تمیزنہیں کرسکتا، بھی اپنے حکیمانہ مشوروں کے ساتھ میچ کے مناظردیکھ رہاہے اورحریف ٹیم کے کھلاڑیوں کیوخوب گالیاں اوربددعائیں دیتاہے۔شاید میچ دیکھنے کایہ عالم پوری دنیامیں اورکہیں نہیں ہوگا، اپنی جیت پر حد سے نکل کر خوشی منانا اوردوسروں کی جیت پر اپنے غصے پرقابونہ رکھنااورایسے ایسے حرکات کرناکہ انسان کاسرشرم سے جھک جاتاہے۔بلے اوروکٹوں کاجنازہ شاید دنیامیں کسی قوم نے پڑھایاہو۔ میچ ہارنے پر ٹیلی وژ ن پرسرعام ڈنڈوں کی بارش کرنا اوراپنی ہی کھلاڑیوں کے پتلے بناکر انہیں سولی پرچڑھانابھلاکبھی کسی مہذب قوم کی پہچان ہوسکتی ہے۔سوشل میڈیاپرایسے ایسے مناظردیکھنے کو ملتےہیںکہ حیرت کی انتہانہیں رہتی۔

بچے سے لیکر بوڑھوں تک سارے فیس بک کے ایسے دیوانے ہیں کہ اورکوئی کام ہی نہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ہماری قوم کاوہ طبقہ ناخواندہ ہے اوراپنے نام تک نہیں لکھ سکتاوہ بھی سمارٹ فون لیتے ہیں اورفیس بک میں دھڑادھڑآئی ڈیزبناتے ہیں۔ بوڑھے اورعمرسیدہ افراد کی ایک دیرینہ خواہش ہوتی ہے کہ مرنے سے پہلے کم ازکم انکی ایک عددآئی ڈی ضروربنےاوراسکے لئے کہیں سے ایک عددتازہ فوٹولینےکے لئے صحن گلشن میں جاتے ہیں۔ہمارے نوجوان سٹائل بدل بدل کراورنئے نئے کپڑے پہن فوٹوزبناتے ہیںتاکہ اسے فیس بک پر اپلوڈ کرکے پوری دنیاکو اپنی اصلیت دکھاسکے۔میرے ایک دوست نے ایک خوبصورت وادی میں ایک جگہ کئی تصاویرنکال کرفیس بک پر پوسٹ کئے۔میں نے کمنٹس میں لکھا۔۔کم ازکم ایک آدھ تصویر خالی نظارے کابھی کھنچوالیتے، پتہ چلتاکہ یہ وادی کتنی خوبصورت ہے جس پر وہ ناراض ہوئے۔۔۔




ہماری زندگی میں اعتدال نام کی کوئی چیز نہیں۔ہم یاتوکوئی کام کرتے نہیں اوراگرکرتے ہیں توپھراس بات کو نہیں دیکھتے کہ اس کافائدہ کتناہے اورنقصان کیاہےبلکہ اپنی حد سے ہمیشہ تجاوزکرتے ہیں کیونکہ اصل میں ہمیں کچھ کرناآتانہیں ۔ہمارے سامنے کوئی مقصدتوہوتا نہیں بلکہ ہم زندگی کو یوں گزارتے ہیں ، جیسے موت ہمارے سامنے کھڑی ہے اورہمیں اس تک پہنچنے کی جلدی ہے یاجیسے زندگی ہمارے اوپر بوجھ بنی ہواورجو وقت کی شکل میں اللہ نے ہمیں بہت بڑی دولت دی ہے اسکو کسی طرح لٹاکرختم کردیں۔کوئی مقصدحیات نہ ہو، کچھ حاصل کرنے کی جستجونہ ہو، مقابلہ کاجذبہ نہ ہو،مختلف حالات وواقعات سے عبرت حاصل نہ ہو،زندگی میں تغیراورانقلاب کی سوچ نہ ہواوردین دنیامیں کامیابی کے حصول کاشوق نہ ہوتوپھر۔۔۔۔۔۔۔۔سوشل میڈیاکو اس طرح استعمال کرکے، زندگی کے قیمتی لمحات ضائع کرکے دین دنیامیں رسوائی اورذلت ہمارامقدرہوگی۔۔

سوشل میڈیا اور ہم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں