پاکستان میں شراب 188

یہ گناہ ریاست کے حکمرانوں کے سر ہوگا

Abdul Jabbar Khan Columns

کچھ عرصہ قبل بھارتی فوج کے چیف نے کہا تھا کہ پاکستان سیکولر ہوجائے تو تب ہی پاکستان سے بات چیت ممکن ہے۔ بھارت نے سال رواں کے دوران کچھ ایسے قوانین پاس کئے گئے ہیں جو اخلاقی قدروں کا جنازہ نکالتے ہیں بھارت میں ہم جنس پرستی کی کھلی اجازت دی گئی ہے جبکہ جنسی تعلقات قائم کرنی کی بھی اجازت کا قانون وہاں پاس ہو چکا ہے، اس کے علاوہ بھارت میں شراب پینے اور فروخت کرنے کی مکمل آزادی ہے بلکہ ان کے فوجی شراب نوشی کرتے ہیں ان کا کہنا ہے وہ اس سے چست رہتے ہیں۔

خیر ذرہ سرحد کے اس طرف دیکھنے کی بجائے کچھ اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں، کہ جو بل گزشتہ دنوں اسمبلی میں پیش کیا گیا اسے مسترد کرنے کے پیچے یہ بات تو نہیں کہ بھارتی آرمی چیف کی بات کو ہمارے سیاست دانوں نے پلے باندھ لیا ہو کہ ملک کو سیکولر بنانا ہے۔ بل کے مسترد ہونے پر عوامی ردعمل کا جواب ہمارے منادی دینے والے سرکاری ڈھول نے جواب دیا شراب جس کا دل کرے پیے اور جس کا دل نہ کرے وہ نہ پیے۔ اب اس سے کیا مطلب لیا جائے کہ جس کا دل کرے وہ شراب پیے جب اتنی اجازت موصوف نے دے دی ہے تو تھانوں میں شراب نوشی کرنے والے لوگوں کو بھی رہائی کا پروانہ جاری کردیں۔

شراب پر پابندی کا بل تو ایک اقلیت سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ممبر رمیش کمار نے پیش کیا بل میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی مذہب میں شراب پینے کی اجازت نہیں، اب کچھ سیاست دان رمیش کمار کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ یہ سب سستی شہرت کے لیے تھا۔ شراب پر پابندی کا یہ پہلا بل نہیں ہے اس سے پہلے 2014اور2015 میں جمیعت علمائے اسلام کے رکن حافظ حمداللہ بھی پیش کر چکے ہیں۔




برصغیر کے مسلمانوں نے الگ وطن دوقومی نظریے کی بنیاد پر حاصل کیا جس میں مسلمان اپنی زندگیاں اسلام کے مطابق گزار سکیں ، اسلام کے نام پر حاصل ہونے والی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلاتی ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے جس ملک کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اسی کے حکمرانوں نے اسلام سے دوری اختیار کر رکھی ہے، اور حکمران جب یہی فرما دیتے ہیں جس کا دل کرے شراب پییے جس کا دل نہیں کرتا وہ نہ پیے کس طرح کی بچگانہ بات کی ہے ایک اہم عہدے پر براجمان ذمہ دار شخص نے۔

حکمران جو ہیں سو ہیں عوام نے بھی کچھ کسر نہیں چھوڑی ، شراب نوشی کے حوالے سے دنیا میں پاکستان کا 35 واں نمبر ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 99 فیصد مسلمان غیر مسلموں کے لائسنسزپر شراب بیچتے اور خریدتے ہیں۔پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ لوگ شراب نوشی کرتے ہیں جبکہ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ان کی تعداد 40 لاکھ ہے۔

پاکستان میں اس وقت شراب بنانے والی تین قانونی فیکٹریاں قائم ہیں۔ ان میں سے صرف ایک فیکٹری مری بریوری سالانہ 50ہزار ہیکٹولیٹر یعنی پچاس لاکھ لیٹر بیئر اور 4 لاکھ گیلن لکر بناتی ہے۔ اس کے علاوہ امپورٹ شدہ شراب کی بھی فروخت فائیو سٹار ہوٹلز میں ہوتی ہے وہاں باقاعدہ مہے خانے بنائے گئے ہیں جن میں جام پینے والے اکثر مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ امپورٹ ہونے والی شراب جہاں عالمی سطح پر ہمارے لیے رسوائی اور اخلاقی کمزوری کو ظاہر ہوتی ہے وہیں یہ ہمارے زرمبادلہ کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔

شراب نوشی کرنے والے کوئی ریڑھی والا ، مزدوری کرنے والا ، پرچون کی دوکان والا ، کھیتوں میں کام کرنے والا عام مزدور پاکستانی نہیں بلکہ ملک کا باشعور طبقہ جسے ہم ایلیٹ کلاس کہتے ہیں وہ اس لعنت میں مبتلا ہوتا ہے ، اس کی بنیادی وجہ ہے پیسے کی فراوانی ، ملک کے عام اور غریب آدمی کو تو دو وقت کا کھانا بڑی محنت کے بعد نصیب ہوتا ہے۔

شراب نوشی کی اجازت کسی مذہب میں نہیں ہے یہ بس انسان نے اپنے آپ کو خود عذاب میں ڈالا ہوا ہے میں گزشتہ ماہ بھارت کی ایک اردو ویب پر خبر پڑھی جو کہ قابل افسوس اور شرم ناک تھی ایک لڑکے نے شراب کے نشے میں اپنی سگی بہن سے زیاتی کر ڈالی ، ہمارے دین اسلام میں اس لیے شراب اور نشے کی ممانت کی گئی ہے کہ انسان اپنا ہوش جب کھو بیٹھتا ہے تو اسے کسی کی پہچان نہیں رہتی ۔




شراب کوئی فائدے مند چیز نہیں ہے گناہ کے ساتھ ہمارے صحت پر برے اثرات مرتب کرتی ہے، شراب نوشی کی وجہ سے ہر سال دنیا میں 30 لاکھ لوگ مرتے ہیں۔ دنیا میں ہر 20 میں سے ایک موت شراب کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اور دنیا بھر میں تقریبا 23 کروڑ 70 لاکھ مرد اور چار کروڑ 60 لاکھ خواتین شراب کی وجہ سے ہونے والی بيماريوں کی زد میں آتے ہیں

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال شراب کے استعمال سے ہونے والی کل اموات میں 28 فیصد شراب کے استعمال سے متعلق واقعات ہیں۔ مثلاً نشے میں گاڑی چلانا اور گھر میں مارپیٹ، خود کو نقصان پہنچانے وغیرہ سے هوتی ہیں۔ 21 فیصد قوت انہضام میں خرابی آنے کی وجہ سے، 19 فیصد دل سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے اور باقی اموات کینسر، خطرناک وبا، ذہنی بیماریوں اور دیگر صحت کی وجوہات هوتی ہیں۔

اب تمام صورت حال اور شراب کے نقصانات کے باوجود بھی کوئی شراب نوشی کرتا ہے تو وہ اپنی عاقبت خراب کرے گا، اگر شراب پینا پلانا فروخت کرنا گناہ ہے تو فروخت کی اجازت دینا بھی گناہ ہے اور یہ گناہ ریاست کے سر ہوگا اور اس حکمرانوں کے سر ہوگا جو اس کی اجازت دیتا ہے۔

عبدالجبار دریشک

پاکستان میں شراب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں