181

ایسے پیسے جو دھونے سے بھی خراب نہیں ہوں گے

Abdul Jabbar Khan Columns

بادل بہت گہرے بنے ہوئے تھے آسمان پر، لگ ایسے رہا کہ آج بارش تو ضرور ہوگی موسم کے تیور بدلنے کا بھی پتہ نہیں چلتا کہ کب رنگ بدل جائے چلیں خیر بڑے دن بعد ایسا موسم دیکھنے کو ملا ہے بارش بھی ضروری ہے لیکن وہ سوچا رہا تھا کہ میں گھر سے کافی دور ہوں اور میرے پاس ہے بھی موٹر سائیکل راستے میں بارش ہوگئی تو کہیں بھیگ گیا تو کپڑوں کی خیر ہے لیکن جیب کے سامان کی فکر ہے اس نے راستے سے ایک دوکاندار سے شاپر لیا جیب کا سارا سامان اس میں ڈال کر دوبار جیب میں ڈال دیا اور مطمئن ہو کر سفر کرنے لگا

ہم سب کے ساتھ اکثر ایسا ہو جاتا ہے ہمارے پاس جیب میں کچھ ہو نہ ہو لیکن تھوڑے بہت کرنسی نوٹ ضرور ہوتے ہیں جن کے بھیگ جانے سے کچھ پریشانی ہوتی ہے




دنیا میں اب کچھ ایسے ممالک ہیں جو 2020 تک اپنے کرنسی نوٹ کاغذ کی بجائے پلاسٹک کے بنا رہے ہیں چین، برطانیہ، آسٹریلیا، سینگاپور، انڈونیشیا، رومانیا اور ویت نام جیسے ممالک شامل ہیں اب ان ممالک کی فہرست میں ایک اور ملک کا بھی آضافہ ہوگیا ہے اس ملک کا نام ہے مصر ۔

مصرمیں کرنسی نوٹ پہلی بار 1836ء میں رائج ہوئے۔ شروع شروع میں مصر کی کرنسی سونے اور چاندےے سکوں پر مشتمل تھی لیکن وقت کے ساتھ اس میں بھی جدت آئی اور کرنسی کاغذ پر منتقل ہوگئی مصر کی کرنسی کو پاؤنڈ کہا جاتا ہے اور مصری پاؤنڈ بارے میں خیال کیا جاتا ہے یہ برطانوی استبداد کی ایک علامت ہے۔ برطانیہ نے مصر پرقبضے کے دوران مصری پائونڈ متعارف کرائے تھے۔

گزشتہ دنوں مصر کے مرکزی بنک کے گورنر طارق نے بتایا کہ پولیمر مادے سے تیار کردہ پلاسٹک کے کرنسی نوٹ 2020ء تک مارکیٹ میں آجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پلاسٹک کے مصری پاؤنڈ کی طباعت کی لاگت میں کاغذ کے نوٹ کی نسبت کم اخراجات ہوں گے۔ اس کے علاوہ پلاسٹک کے کرنسی نوٹوں کی جعل سازی نہیں کی جاسکے گی۔ مصر ابتدائی طور پر 10 پاؤنڈ پلاسٹک کا کرنسی نوٹ بنائے گا اور ایسے ہی کچھ عرصہ تک ساری کرنسی تبدیل کر دی جائے گی۔

برطانیہ بھی پلاسٹک کے کرنسی نوٹ 2020 تک لے آئے گا جس پر مسلمان خاتون نورالنساء کی تصویر ہوگی نورالنساء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ٹیپو سلطان کی پڑپوتی ہے۔

نورالنساء کے متعلق میں پہلے پوسٹ لگا چکا ہوں اس کا لنک نیچے موجود ہے کوئی احباب پڑھنا چاہے تو اس لنک پر کلک کرے

عبدالجبار دریشک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں