230

پاکستانی نوجوانوں کے لیے باہر ممالک روزگار کے دروازے کھلنے والے ہیں

Abdul Jabbar Khan Columns

ہمارے ملک میں زر مبادلہ ایک تو ایکسپورٹ کی صورت میں آتا ہے جس کی کل مالیت 20 ارب ڈالر سے زیادہ بنتی ہے اور اتنی ہی ہمارا زرمبادلہ دیار غیر میں ہمارے ہم وطن بھجواتے ہیں جس کی مالیت بھی بیس سے 21 ڈالر سالانہ بنتی ہے ان دونوں کو جمع کر لیا جائے تو ہماری امپورٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے ہمارے بجٹ خسارہ میں آضافہ ہوجاتا ہے زرمبادلہ میں کمی کی وجہ سے روپے کی قدر میں گروٹ آتی ہے اور ایسے مہنگائی میں بھی آضافہ ہوتا ہے پھر ایک کے بعد ایک مسئلہ سر اٹھانا شروع کر دیتا ہے مہنگائی سے بے روزگار اور بے روزگاری سے امن امان کی صورت حال خراب ہوتی ہے امن امان کی صورت حال مخدوش ہونے سے غیرملکی سرمایہ کاری کم ہوتی ہے۔

صدر پاکستان جناب عارف علوی صاحب نے نے قوم سے گزارش کی ہے کہ غیرملکی ایٹم خریدنے کی بجائے پاکستان میں بنی اشیاء پر انحصار کیا جائے۔ اگر قوم واقعی کچھ عرصے تک اس پر عمل درآمد کرتی ہے کفایت شعاری اپنانے کے ساتھ غیرملکی سامان خریدنے سے گریز کرتی ہے تو ہمارا بجٹ خسارہ کم ہو سکتا ہے۔




زرمبادلہ کے ذخائر میں آضافہ کا ایک تو یہ طریقہ ہو گیا دوسرا طریقہ ایکسپورٹ بڑھائی جائیں تیسرا طریقہ اپنی افرادی قوت ، ہنر مند افراد کو باہر بھجوانے کے مختلف ترقی یافتہ ممالک سے معاہدے کیے جائیں۔

احباب افرادی قوت سے زرمبادلہ کے حصول کے متعلق میں نے کئی مرتبہ اپنی تحریروں میں آپ سب کو بتا چکا ہوں کہ اس وقت بھارت چین سے آگے ہے بھارت 67 ارب ڈالر سالانہ حاصل کر رہا چین 63 فلپائین 42 اور پاکستان کا صرف 20 ارب ڈالر بنتا ہے۔ جو انتہائی کم ہے




موجودہ حکومت کی بھر پور کوشش ہے کہ سفارتی سطح پر پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کیے جائیں تاکہ ایک تو سرمایہ کاری پاکستان لائی جائے دوسرا اپنی افرادی قوت کو ان ممالک میں روز گار کے سلسلے میں بھجوایا جائے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے غیرملکی دوروں میں اس بات پر زیادہ توجہ دی سعودی عرب ، ملائشیاء ، یو اے ای سے اس حوالے سے بات بھی ہو چکی ہے اور کافی حد تک معاہدے بھی طے پا چکے ہیں اب آئندہ دورہ وزیر اعظم عمرام خان قطر کا کرنے والے ہیں جہاں ایل این جی کے معاہدوں کے علاوہ افرادی قوت دینے کا بھی معاہد کریں گے تاکہ پاکستانی نوجوانوں کو وہاں بہتر روز گار مل سکے

ہم وطنوں کے لیے ایک خوشخبری یہ بھی ہے کہ جرمنی میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو ہنرمند افراد کی کمی کا سامنا ہے اور ایک اندازے کے مطابق 2030ء تک جرمنی میں 30 لاکھ ہنرمند افراد کی ضرورت ہو گی۔




اسی سال 26 اکتوبر کو جرمنی حکومت نے پاکستان وزارت خارجہ کے نام لکھا اس خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی ہنرمندوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں جرمنی بھیجنے کے لیے متعلقہ وزارت یہ بات یقینی بنائے کہ ایسے افراد درکار قابلیت سے مطابقت رکھتے ہوں۔ جرمنی میں انجینئرز اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں افرادی قوت درکار ہے

اگر پاکستانیوں کی بڑی تعداد ان ممالک میں کھپ جاتی ہے تو ہمارا 20 ارب ڈالر کا اس مد میں آنے والا زرمبادلہ دوسال کے اندر ڈبل ہو جائے گا۔ ایسے ہی روپے کی قدر بڑھے گی اور مہنگائی کم ہونے سے تمام تر صورت حال بہتر ہوجائے گی۔

عبدالجبار دریشک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں