ہتھیار 260

17ویں صدی کا ایک عجیب وغریب ہتھیار

یہ 17ویں صدی کا ایک ہتھیار ہے جو چرچ کی طرف سے اندلس میں مسلمانوں پر تشدد اور جبر کر کے انہیں عیسائییت قبول  کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ تفصیل جاری ہے۔۔۔





ہتھیار

قید میں موجود مسلمانوں کے ہاتھ باندھنے کے بعد اس اوزار کو قیدی کی گردن میں پھنسا دیا جاتا اور یہ اس ٹائم تک ہوتا جب تک قیدی اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہ ہو جاتا۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب اور کوئی چہرہ نہیں ان کے لئے عرض ہے کے دہشتگردی کا مذہب اور چہرہ #یورپ کی #تہذیب ہی ہے۔
آج صرف انداز اور طریقہ واردات تبدیل ہوگئے ہیں اصلی فطرت تبدیل نہیں ہوئی۔




اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں