چاپلوسی کی وبا

چاپلوسی کی وبا تحریر عبدالجبار دریشک

Abdul Jabbar Khan Columns

چاپلوسی کی وبا پھوٹ پڑنے سے معاشرتی حقائق دفن ہو رہے ہیں دنیا میں مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے جن کی بنیادی وجہ چاپلوسی کی باقاعدہ فارمنگ کی جارہی ہے جیسے برائلر مرغی کی فارمنگ کی جارہی ہے برائلر مرغی ظاہری تو مرغی ہے لیکن اندر سے پھولا ہوا بے کار جسم اور بیماری پھیلنے والا گوشت ہے

ایسے ہی آج کے دور میں چاپلوسوں کی بڑے پیمانے پر پرورش ہورہی ہے ہر موقع پر ایونٹ ، خوشی ،غمی پر چاپلوسوں کا موجود ہونا ضروری ہے اگر خدشہ ہو کہیں چاپلوس موجود نہیں ہوں گے تو اپنے ساتھ پیک شدہ چاپلوس لے جانا ایک فیشن بن چکا ہے جو دم نہ ہونے کے باوجود ہلاتے رہتے ہیں۔

چاپلوسی کی وبا

سکندر اعظم کے دور میں ایک مشہور زمانہ فلسفی دیوجانس کلبی کو ایک شاہی چاپلوس فلسفی نے کہا، دیو جانس تم اگر تم بادشاہوں کی تعریف اور خوشامد کرنا سیکھ لیتے تو مسور جیسی معمولی غذا ہرگز کھانے پر مجبور نہ ہوتے۔




اس بات کو سن کر دیوجانس کلبی نے ایک بڑا معنی خیز جواب دیا اس نے کہا اگر تم مسور جیسی معمولی غذا کھانا سیکھ لیتے تو بادشاہ کی تعریف اور خوشامد پر کبھی مجبور نہ ہوتے۔

یہ ہمارے اندر کی لالچ اور مفاد پرستی ہی ہے جو ہمیں اپنے جیسے انسان کے سامنے جھکنے پر مجبور کرتی ہے اس دنیا میں کتنے انسان ہوں گے جو کسی کی خوشامد اور چاپلوسی کے بغیر زندہ ہوں گے دراصل وہ لوگ دیو جانس کی طرح مسور کی دال کھانا سیکھ چکے ہوں گے۔

عبدالجبار دریشک

اپنا تبصرہ بھیجیں