Thugs of hindustan 178

سو دن کی فلم دیکھ لی اب ٹھگ آف ہندوستان بھی دیکھ لیں

سو دن کی فلم دیکھ لی اب ٹھگ آف ہندوستان بھی دیکھ لیں

Abdul Jabbar Khan Columns

عامر خان نے پہلی بار امتابچن جیسے بہت بڑے اداکار کے ساتھ کام کیا 325 کروڑ لگا کر فلم ” ٹھگ آف ہندوستان ” بنائی لیکن یہ عامر خان کی پہلی فلم تھی جو ناکام رہی جس کو شائقین نے پسند نہیں کیا جس کا اعتراف خود عامر خان نے کیا ہے کہ ان سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں جن کی وجہ سے فلم شائقین کے دل میں جگہ نہیں بنا سکی۔




میں نے فلم ٹھگ آف ہندوستان دیکھی تو نہیں کہ اس پر تبصرہ کر سکوں شاید اب ارادہ بن رہا ہے فلم کو دیکھنے کا ، عامر خان کی ادکاری ویسے بھی لاجواب ہوتی ہے وہ کردار کا حقیقی روپ پیش کرتے ہیں۔ میرے دل میں فلم دیکھنے کا تجسس اس وقت پیدا جب میں نے ٹھگوں کے ایک کردار کے بارے میں پڑھا تو میری تاریخ کی کھوج کے ساتھ یہ بھی معلوم پڑا دراصل ٹھگ آف ہندوستان ایک انگریزی ناول کنفیشنز آف اے ٹھگ جس کو ہندوستان میں تعینات ایک انگریز جیل سپریٹنڈنٹ میڈوز ٹیلر نے لکھا یہ ناول1839 میں شائع ہوا جس میں ٹھگوں کے بارے میں سب سے دلچسپ معلومات تھیں۔

Thugs of hindustan

فلم ٹھگ آف ہندوستان میں کون سے کردار اور کس نام سے تھے اس کے بارے تو فلم دیکھ کر بتاؤ گا لیکن ہندوستان کے ٹھگوں میں دو نام بہت ہی زیادہ مشہور تھے ایک امیر علی خان جس کے جیل میں بیانات پر میڈوز ٹیلر نے ناول کنفیشنز آف اے ٹھگ لکھا دوسرا نام بہرام ٹھگ کا تھا

ہندوستان میں ٹھگ کون تھے اور کیسے سامنے آئے ہمیں تاریخ بتاتی ہے جب ہندوستان میں مغلوں کی سلطنت کو زوال آیا اور ملک میں طوائف الملوکی پھیل گئی ملک میں ناانصافی ، اور غربت بڑھی تو یہاں ٹھگ ایک منظم پیشہ بن گیا۔ یہ لوگ(ٹھگ ) بڑی ہوشیاری سے مسافروں کو لوٹ لیتے تھے۔ ان کے گروپ بنے ہوتے تھے جس میں بارہ یا پندرہ لوگ ہوتے تھے اگر ایک ٹھگ گروپ ناکام رہتا تو وہ اپنے شکار کو دوسرے علاقے کے ٹھگ کے ہاتھ فروخت کر دیتا۔ ان کا بڑا ہتھار رومال یا پھندا ہوتا تھا۔ جس سے وہ آناً فاناً اپنے شکار کا گلا گھونٹ کر اس کا خاتمہ کر دیتے تھے




ٹھگوں نے بڑی تعداد میں لوگوں کا قتل کیا اور انہیں انتہائی چالاکی سے دفن بھی کر دیتے تھے ان میں سب سے ظالم ٹھگ بہرام تھا جس نے سب سے زیادہ قتل کیے جو پکڑا بھی گیا اور اسے 1840 میں پھانسی پر چڑھایا گیا تھا ان کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کی تعداد حیران کن تھی بہرام نے 931 لوگوں کو قتل کیا اس طرح امیر علی 719، رمضان 604، فتح خان 508 لوگ قتل کیے۔

1829 میں برطانوی لارڈ نبٹنگ نے ٹھگوں کے خاتمے کے لیے ایک خاص محکمہ بنایا جو بعد میں انٹیلی جنس کا ادارہ بنا انگریزوں نے 1836 میں ٹھگوں کے انسداد کے لیے ایک خاص قانون بنایا بڑی مشکل کے بعد ان ٹھگوں پر قابو پایا گیا۔

امیر علی سب سے منفرد اور اہم کردار تھا جو ٹھگوں کے خاندان سے تعلق تو نہیں رکھتا لیکن ٹھگ بن گیا تھا جب انگریزوں نے اسے پکڑ تو اس سے پوچھا گیا تم پکڑے نہ جاتے تو کتنے قتل کرتے امیر علی نے کہا ایک ہزار ، امیر علی کو اپنی اصلیت کا پتہ جیل میں چلا کہ وہ کسی اور کا بیٹا ہے جو ٹھگ نہیں تھا۔

امیر علی کے باپ کا نام یوسف خان تھا جو کہ پٹھان قبیلے سے تعلق رکھتا تھا وہ ایک مرتبہ اپنی بیوی بیٹے امیر علی اور پانچ محافظوں کے ہمراہ سفر کررہا تھا کہ اسماعیل ٹھگ ان کے ساتھ راستے میں ہو لیا اس دور کے ٹھگ انتہائی چالاکی سے اپنے شکار کو شیشے میں اتارتے تھے۔ راستے میں اسماعیل نے اپنے ساتھی گنیشا کے ساتھ مل کر یوسف خان اور اس کی بیوی کو مار ڈال ، گنیشا امیر علی کو بھی مارنا چاہتا تھا لیکن اسماعیل نے اسے بچا لیا اس وقت امیر علی کی عمر پانچ سال تھی۔

امیر علی کو اسماعیل نے بیٹے کی طرح پالا اور اسے ایک ٹھگ بنا دیا امیر علی کو اسماعیل نے مرتے وقت صرف اتنا بتایا تھا کہ وہ اس کا بیٹا نہیں ہے اسماعیل صرف اتنا ہی بتا سکا کیوں اسماعیل کو جھالون کے راجہ نے ہاتھی کے پاؤں تلے کچلاوا دیا تھا جو صرف یہی بتا سکا، جب امیر علی 1832 میں گرفتار ہوا تو جیل میں بوڑھے ٹھگوں نے اسے سارا قصہ سنایا تب امیر علی نے گنیشا کے بارے بتا کر اسے گرفتار کروایا۔

امیر علی کی زندگی میں تین عورتیں بھی تھیں جن سے اسے محبت ہوئی پہلی عورت زہرہ نامی طوائف تھی جو ایک نواب کی محبوبہ تھی جس کو امیر علی بھاگا کر لے گیا لیکن بعد میں زہرہ کو اس کی ماں کے حوالے کر دیا ، زہرہ کی ماں نے شادی کے لیے پندرہ ہزار روپے کی ڈیمانڈ کی جو امیر علی پوری نہ کر سکا اور زہرہ کا ساتھ اس سے چھوٹ گیا۔

دوسری عورت حیدر آباد کے کسی تجار کی بیوی تھی اس نام عظیمہ تھا جس کو امیر علی بھگا کر لایا اور اس سے شادی لی۔ عظیمہ مرتے دم تک امیر علی کی بیوی رہی جس سے امیر علی کے دو بچے ہوئے۔ بیٹا بچپن میں ہی مر گیا لیکن بیٹی زندہ رہی.

تیسری عورت ایک بیوہ تھی جو ایک نواب کی بیوی تھی اس کا نام شرفن تھا. لیکن جب شرفن کو معلوم ہوا کہ یہ ایک ٹھگ ہے تو امیر علی کے ساتھی موتی نے شرفن کو مار ڈالا جس کی اجازت امیر علی نے خود دی تھی۔




ناول کنفیشنز آف اے ٹھگ کے بارے میں بعد میں تنقید بھی کی جاتی رہی ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستانیوں پر جو ظلم کرتی رہی ہے اس کے بارے میں اس بات کی رائے عامہ میں راہ ہموار کرنے کے لیے مصنف میڈوز ٹیلر نے بہت ساری کہانیاں گھڑی ہیں اور ناول کے ذریعے یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ ہندوستان میں ٹھگوں عوام پر مظالم کر رہے تھے جو ان کے جانے سے پہلے موجود تھے۔

خیر تاریخ میں ٹھگ ہوں یا ایسٹ انڈیا کمپنی کے لارڈ انہوں نے ہندوستان کی عوام پر بہت ظلم کیے ہیں۔ ڈاکو ٹھگ بعض مرتبہ ریاستی اداروں اور ریاست کے ظلم سے بھی پیدا ہوتے ہیں اور بعض مرتبہ حکومتیں ڈاکوں ٹھگوں کے خاتمے کے لیے اپنے سرکاری ڈاکو بھی بناتی ہیں جن کی مثال سومالیہ بحری قزاک ہیں کہا جاتا ہے جن کی سرپرستی باقاعدہ 9/11 بعد امریکا کرتا رہا ہے

تاریخ بدلنے کے ساتھ ٹھگوں کی بھی شکلیں بدلتی رہی ہیں۔ پہلے والے ٹھگ اور موجودہ صدی کے ٹھگوں میں ایک فرق یہ ہے کہ پہلے والے ٹھگ فوری مارتے تھے اور اب والے ٹھگ تڑپا تڑپا کر مارتے ہیں اور جب وہ ٹھگ پکڑے جاتے تھے تو انہیں پھانسی دی جاتی تھی اور ان کے ساتھ پلی بارگین اور این آر او کیا جاتا ہے۔

ہمارے آس پاس ٹھگ امیر علی ، بہرام ٹھگ ، گنیشا جیسے ٹھگ اب بھی موجود ہیں۔ دو بڑے ادکاروں نے فلم ٹھگ آف ہندوستان بنائی لیکن ناکام ہوگئی لیکن ہمارے دو بڑے ادکاروں نے جو فلم بنائی وہ سو دن میں تو کامیاب نہ ہوئی آگے کامیابی کی امید ان دونوں کو ضرور ہے

ٹھگوں کی داستان پڑھ کر اب میری طرح آپ کا دل بھی چاہا رہا ہو گا سو دن کی فلم دیکھ لی اب ٹھگ آف ہندوستان بھی دیکھ لیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں