242

آسان سا کام – ایک بادشاہ کی سبق آموز کہانی

آسان سا کام – ایک بادشاہ کی کہانی – تحریر شبیر بونیری
برمکّی خاندان خلافت عباسیہ کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل رہا اور اسی خاندان کے ایک سپوت یحییٰ برمکی نے عباسی خاندان کو انتظام حکومت چلانے میں ہر قسم کی کمک فراہم کی ۔ برمکیوں سے عباسیوں کا رشتہ آخر تک کیسا رہا یہ تاریخ میں سر کھپانے والا الگ ایک موضوع ہے لیکن یہ ایک اٹل حقیقیت ہے کہ اگر برمکی نہ ہوتے تو شائد بنو عباس کھبی بھی دو صدیوں سے ذیادہ حکومت نہ کرتے ۔ یحییٰ برمکی خلیفہ ہارون رشید کا انتہائی معتمد وزیراوراستاد تھا اور خلیفہ اس کے ساتھ رازو نیاز کی ہر بات برملا ڈسکس کیا کرتا یہاں تک کہ حکومتی اور خلیفہ کے ذاتی معاملات میں بھی اگر کوئی بہت سنجیدہ نوعیت کا مسئلہ درپیش ہوتا تو بھی یحییٰ برمکی قصر خلافت میں موجود رہتا.

ایک دفعہ خلافت کی معاشی حالت انتہائی ابتر ہوگئی یہاں تک کہ اشیائے خوردونوش کی قلت تک بات آگئی ۔ ہارون دربار میں افسردہ اور غیر فعال بیٹھا کسی گہرے سوچ میں غرق تھا کہ اچانک یحییٰ برمکی کی آمد ہوئی ۔ ہارون نے جب یحیٰ برمکی کو دیکھا تو اس کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا اور بغیر کسی حیل و حجت کے قحط ذدہ ملت کا رونا رونے لگا ۔ یحییٰ نے جب خلیفہ کی پریشانی دیکھی تو وہ زیر لب مسکرایا اور خلیفہ سے مخاطب ہوکر کہنے لگا۔

“یہ تو بہت آسان سا معاملہ ہے بس آپ میری ایک کہانی سنیئے اور اس کے بعد خود کو ، اپنے خاندان کو ،دربار کے وزراء کو، اور خلافت سے منسلک تمام افراد کو کام پر لگایئے ۔
خلیفہ تو پہلے بہت حیران ہوا لیکن بعد میں فوراً اس کی کہانی  سننے پر آمادہ ہوا۔ جاری ہے۔۔۔۔




یحییٰ برمکی کہنے لگا ” ایک جنگل میں ایک بندر اپنے ایک نومولود بچے کے ساتھ زندگی بسر کر رہا تھا ۔ ایک دن بندر کو ایک ضروری کام کے سلسلے میں جنگل سے بہت دور جانے کی ضرورت پیش آئی ۔ بندر اپنے نومولود بچے کو ظاہر ہے اتنے طویل سفر پر نہیں لے جاسکتا تھا اسی لئے کافی سوچ بچار کے بعد اس نے اپنا بچہ جنگل کے بادشاہ شیر کے حوالے کیا اور اس سے وعدہ لیا کہ جب وہ واپس آئیگا تو شیر اس کو اس کا بچہ صحیح سلامت واپس دے گا ۔ شیر اور بندر کے درمیان معاہدہ ہوا اور بندر دل پر پتھر رکھ کر عازم سفر ہوا ۔ وقت گزرتا رہا بندر کا بچہ اور شیر ایک دوسرے سے کافی مانوس ہوگئے یہاں تک کہ شیرہر وقت اپنی پیٹھ پر بندر کا بچہ لئے گھومتا رہتا ۔ جنگل کے دوسرے جانور بھی یہ پورا کھیل دیکھتے رہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی بندر کے بچے کو وہ عزت ،مقام اور اہمیت دیتے جس کا وہ ہر گز حقدار نہ تھا۔

ایک دن شیر بندر کے بچے کو پیٹھ پر بٹھائے جنگل میں ٹہل رہا تھا کہ آسمان سے ایک چیل آیا اور پلک جھپکنے کی دیر میں بندر کا بچہ اڑا کر لے گیا ۔ شیر آسمان کی طرف منہ اٹھائے بہت دوڑا ، دھاڑے مار مار کر چیخا چلایا لیکن بندر کا بچہ چیل کے پنجوں میں تھا جہاں شیر کی پہنچ نہ تھی ۔ شیر بے بسی کے عالم میں آہیں بھر رہا تھا اور پہلی دفعہ اس کے دل میں ایک عجیب بات آئی کہ کاش میں زمین سے چند گز اوپر اڑ سکتا تو آج چیل کو وہ سبق سکھاتا کہ وہ زندگی بھر یاد رکھتا۔

چند دنوں بعد جب بندر آیا تو اس نے اپنا بچہ مانگا ۔ شیر نے اپنی بے بسی ظاہر کی جس پر بندر کو یقین نہ آیا اور پھر شیر نے ایک بہت ہی زبردست بات کی “دیکھو میں زمین کا بادشاہ ہوں اور زمین پر کھبی بھی کسی نے اس کو آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات ہی نہیں کی لیکن اس کو اٹھایا آسمان کے بادشاہ نے ہے اور میری وہاں کوئی پہنچ نہیں ہے ” یہ آخری بات کہہ کر یحییٰ برمکی خاموش ہوا اور خلیفہ کی طرف دیکھ کر کہنے لگا۔




“محترم امیر ملّت ۔ یہ مسائل اللہ کی طرف سے ہیں ۔ ہم اگر آج پوری امت کو گھمبیر مسائل میں دیکھ رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم ایسے ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جائیں ۔ ہم اگر حقیقیت میں ان تمام مسائل کا حل چاہتے ہیں تو ہمیں دو انتہائی اہم کام کرنا ہونگے ۔ پہلا کام ، ہمیں زمین پر انسانوں کی طرح جینا ہوگا ۔ ہم دنیا کی اس عارضی زندگی میں اپنے اوقات بھول جاتے ہیں یہاں تک کہ ہم خود کو پہچانتے تک نہیں کہ ہم کون ہیں اور ہماری اصلیت کیا ہے۔

ہم اگر حقیقیت میں ان تمام بحرانوں کا جس کی وجہ سے قصر خلافت کا ماحول تناؤ میں ہے حل چاہتے ہیں تو ہمیں جینے کا انداز بدلنا ہوگا ۔ ہم بادشاہ نہیں ہیں اس زمین پر ہم سے پہلے جو عظیم لوگ گزرے ہیں ان کی زندگی میں سادگی اور عاجزی تھی ۔ ہم جب تک خلیفہ سے لے کر عام انسان تک کا یہ گیپ ختم نہیں کریں گے تب تک ایسے ہی ہم ہر چیز کا رونا روئیں گے ۔ ہمیں یہ حقیقیت ماننی ہوگی کہ ہماری یہ زندگی عارضی ہے اور ایک دن ہمیں پلٹ کر یہاں سے کوچ کرجانا ہے ۔ ہمیں سجدہ سیکھ کر اللہ کی طرف رجوع کرکے اس سے مدد مانگنی ہوگی اور اپنی زندگی کا ہر عمل اس کی مرضی کے تابع بنانا ہوگا ۔ ہم ایسا کریں گے تو کھبی بھی کوئی پریشانی ہمیں رونے پر مجبور نہیں کرسکے گی۔

دوسرا کام ، ہمیں کم از کم یہ حقیقیت ماننی پڑے گی کہ اللہ کے ہر حکم اور ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے ۔ وہ ہمیں بحرانوں میں مبتلا اسی لئے کرتا ہے تاکہ ہم اس کی طرف رجوع کریں اور رجوع کے بعد یہ تسلیم کرلیں کہ وہی مالک کل ہے اور ہم اس کے بندے ہیں ۔ زوال سے مبّرا بادشاہی صرف اسی کا حق ہے ۔




آپ کی یہ پریشانی اسی وجہ سے ہے کہ آپ ایک غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ آپ ہی یہ سب کچھ کر رہے ہیں لیکن حقیقیت میں ایسا بالکل نہیں ہے ۔”
کہانی اور اس کے بعد یحییٰ برمکی کی باتیں سننے کے بعد خلیفہ اٹھا اور کام پر لگ گیا اور پھر تاریخ نے دیکھا کہ حالات اسی نہج پر آگئے جہاں پر ہونے چاہیئے تھے۔

ہم اگر دیکھ لیں تو پاکستان بھی پچھلے کئی عشروں سے بحرانوں میں مبتلا ہے لیکن آج تک کسی یحییٰ برمکی نے بھی بادشاہ وقت کو یہ سمجھانے کی کوشش نہیں کی کہ یہ مسائل کیوں روز بروز بڑھ رہے ہیں ۔ اس حقیقیت سے ہم غیر ارادی طور پر انکاری ہیں کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام ہی ان تمام مسائل کا حل ہے ۔ اللہ کی طرف رجوع اور سجدہ ریز ہونا اس عارضی زندگی کا سب سے بڑا اور اہم اصول ہے اور جب تک قومیں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتی ہیں ان پر بحران اگر آبھی جائیں تو ان کا حل آسان ہوتا ہے ۔ ہم نہ خود اپنی اصلیت دنیا کے سامنے واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ یہ حقیقت کھلے عام مانتے ہیں کہ اللہ ہی ہمارا مالک ہے اور ہم اس کے بندے ہیں اور اسی بندگی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اپنے تمام مسائل کا حل اللہ ہی سے مانگے۔

یہ دنیاوی بحران عارضی ہوتے ہیں ان میں اللہ کی طرف سے واضح پیغام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہر حال میں پرکھ رہا ہوتا ہے کہ ان پر جب امتحان آتے ہیں تو ان کا رویہ کیا ہوتا ہے ۔ آج اگر ہم دیکھ لیں تو مذہبی مسائل پر بھی ہم من حیث القوم خاموش ہوجاتے ہیں اور ریاست پر بھی عام لوگوں کا اعتماد ختم ہوچکا ہے ۔ عام آدمی کی زندگی اتنی اجیرن بن چکی ہے کہ اس کو اپنی بقاء کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آرہا اور ستم ظریفی یہ ہے کہ حکمران نہ تو یحییٰ برمکی جیسے لوگ ہیں اور نہ ہارون رشید جیسے ۔ ہم اگر ان تمام مسائل کا حل چاہتے ہیں تو ہمیں ایک آسان سے حل کی طرف جانا ہوگا۔

ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور اس سے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگنی ہوگی کیونکہ ہمارے اجتماعی گناہوں کا بوجھ اتنا ذیادہ ہوچکا ہے کہ جس کی وجہ سے ہم رجوع کی طرف سوچ بھی نہیں سکتے ۔ ہم لاکھ کوشش کریں ،لاکھ ہاتھ پاؤں ادھر ادھر ماریں لیکن کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ۔ ہم اگر حقیقیت میں پاکستان کو تاقیامت اسلام کا قلعہ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اللہ کا نظام ہی نافذ کرنا ہوگا۔

ہمارے حکمرانوں ،وزیروں اور مشیروں کو سادہ زندگی گزارنی ہوگی اور عوام کو بھی اس جانب راغب کرنا ہوگا ۔
ہم اس آسان حل کی طرف بڑھیں گے تو ہمارا نام ونشان رہے گا ورنہ زندگی بھر ایک کے بعد ایک بحران ہماری طرف بڑھے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں