مولانا سمیع الحق مرحوم پر لبرل لوگ آج کل عجیب و غریب الزامات لگا رہے ہیں

مولانا سمیع الحق مرحوم پر لبرل لوگ آج کل عجیب و غریب الزامات لگا رہے ہیں۔ ان کی حقیقت کیا ہے اس کا ایک حوالہ تاریخ سے دیے دیتے ہیں۔





1990میں نواز شریف ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے وعدے پر اسلامی جمہوری اتحاد کے ذریعے سے وزیراعظم بنے ۔ لیکن وزیراعظم بنتے ہی اپنے وعدے سے انحراف شروع کر دیا۔ اول تو شریعت بل لانے میں ہی ٹال مٹول کر کے اس میں تاخیر کرتے رہے اور جب بل پیش ہوا تو اس میں سب کچھ تھا مگر شریعت کہیں نہیں تھی۔ اس سے مذہبی جماعتوں میں شدید اضطراب پھیل گیا۔





مذہبی جماعتوں نے حکومت سے الگ ہو کر اس کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا جس کی قیادت سینیٹر مولانا سمیع الحق کر رہے تھے۔نواز شریف کو اپنی حکومت جاتی نظر آئی تو لبرلز نے اپنا مشہور ہتھیار یعنی سیکس سکینڈل استعمال کیا۔

ہوا یوں کہ اسلام آباد ایئرپورٹ سےبدنام ِزمانہ میڈم طاہرہ نامی ایک 35 سالہ خاتون شراب اور اسلحہ کے ساتھ گرفتار ہوئی۔ پھر اس کی اعترافی بیان کی آڈیو لیک کردی گئی جس میں اس نے کہا کہ مولانا سمیع الحق اس کے مستقل گاہک ہیں۔ اس معاملے کو قومی اور بین الاقوامی میڈیا نے بہت زیادہ اچھالا۔

اتنی زیادہ کردار کشی کی گئی کہ 14 نومبر 1991کو مولانا سمیع الحق صاحب نے سینیٹر شپ سے استعفیٰ دے دیا ۔ مولانا صاحب کو اس تحریک سے بھی الگ ہونا پڑا جس کی وجہ سے یہ تحریک ناکام ہو گئی اور حکومت کو لاحق خطرہ ٹل گیا۔
جب معاملات درست ہو گئے تو میڈم طاہرہ کا بیان آ گیا کہ میں مولانا سمیع الحق کو نہیں جانتی ہوں اور وہ میرے پاس کبھی نہیں آئے۔ لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔





آج پھر ان پر ایک ایسے موقع پر الزام لگائے گئے ہیں جب عوام ایک مذہبی معاملے پر سڑکوں پر ہیں اور چند دن تک دوبارہ فیصلہ آنے کے بعد پھر سڑکوں پر نکلیں گے۔ جیسے پہلے یہ الزامات جھوٹے تھے ویسے ہی آج بھی سوائے جھوٹ کے ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں