پاکستان میں مہنگائی کی لہر. اصل حقیقت کیاہے؟

تحریر: صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ

مہنگائی کا مطلب چیزوں کی قیمتوں کا آمدن کے مقابلے میں بڑھ جانا۔ یعنی آمدن اتنی ہی ہے یا اس نسبت سے نہ بڑھے جس نسبت سے چیزوں کی قیمتیں بڑھ جائیں۔ علم معاشیات میں اس کی تعریف اسطرح کیجاتی ہے کہ زر کی بہت زیادہ مقدار کے مقابلے میں چیزوں کی بہت تھوڑی مقدار کا حاصل ہونا.
اسکی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں.

1. کرپشن. اگر ملک سے یہ بیماری حتم ہو جائے تو مہنگائی میں کمی واقع ہوسکتی ہے.
2. روپیہ کی قدر میں اتار چڑھاؤ
3. محصولات. اسکا اثر ڈائیریکٹ یا انڈائیریکٹ اثر اشیاء کے مہنگے ہونے پر پڑتا ہے
ٹیکس وصولی کا رواج عام کرنا چاہئے. اور جائیز ٹیکس ادا کرنا چاہئے.
4. ذخیراہ اندوزی. اس سے وقتی طور پر مارکیٹ سے چیز فوراً غائب ہوجاتی ہے اور مہنگائی بڑھ جاتی ہے.
5. ناجائز بلیک مارکیٹنگ.
6. سبسڈی ختم کرنا. اس سے چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں لیکن ملک مقروض ہونے سے بچ جاتا ہے.




عوام کی حالت زار بہتر بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ اولاً یہ کہ مختلف اقسام کے ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے اور ثانیاً یہ کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی جائے۔ مکرر عرض کئے دیتا ہوں سینٹ‘ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں مشکل سے 3یا4 فیصد افراد کا تعلق لوئر مڈل کلاس سے، 96/97 فیصد کا تعلق مڈل کلاس‘ اپر مڈل کلاس اور اشرافیہ کے طبقات سے ہے۔

ان تینوں طبقات سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹرین اس پوزیش میں ہیں کہ اگر انہیں تنخواہیں اور مراعات نہ بھی ملیں تو ان کے گھروں کا چولہا پرانی شان وشوکت سے جلتا رہے گا تو کیوں نہ یہ 96/97 فیصد ارکان عوام کیلئے قربانی دینے میں پہل کریں.

اپنا تبصرہ بھیجیں