292

قومی شعور اور پاکستانی سیاست صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ

ہمیں معلوم ہے کہ شعور کے اعتبار سے انسانی دنیا میں بنیادی طور پر تین طرح کے لوگ موجود ہیں۔ معاشرے کو تشکیل دینے اور تعمیر کرنیوالے، ہوا کے رخ پر زندگی گزارنے والے اور معاشرے کو خراب کرنے اور بگاڑنے والے۔ معاشرے کو تشکیل دینے اور تعمیر کرنیوالے یہ لوگ معاشرے میں اجتماعی شعور کو پروان چڑھانے کے حوالے سے متحرک، فعال، اجتماعی مسائل کا تجزیہ اور لوگوں کی رہنمائی کرتے ہوئے معاشرے کو ایک خاص سمت میں حرکت دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہر معاشرتی تحریک کے پیچھے انہی لوگوں کا دماغ کام کر رہا ہوتا ہے اور انہیں دانشمند طبقہ کہا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر دانشمندوں کے مقابلے میں تین طرح کے لوگ سرگرم ہوتے ہیں۔

پڑھے لکھے مفاد پرست، نیم پڑھے لکھے اور ان پڑھ مفاد پرست۔ پڑھے لکھے مفاد پرست وہ ہوتے ہیں جو شعوری طور پر کسی معاشرے کو فاسد اور خراب کرنے کی مہم چلا کر اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ یہ علمی طور پر ٹھوس اور فنی طور پر ماہر ہوتے ہیں۔ یہ اپنے علم وفن کی مدد سے معاشرے کا تجزیہ کرتے ہیں۔ معاشرے کے کمزور پہلوؤں کو اپنے حق میں استعمال کرنے کیلئے باقاعدہ نقشہ بناتے ہیں اور پھر اس نقشے کے مطابق ماحول تیار کرتے ہیں اور پھر ماحول سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہیں۔دوسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی اپنی کوئی علمی وفکری بنیاد نہیں ہوتی، یہ یا تو غیرفعال ہوتے ہیں اور یا پھرسنی سنائی باتوں اور گرمام گرم خبروں پر ادھر ادھر کی ہانکتے رہتے ہیں، تجزیہ وتحلیل سے عاری ہونے کے باعث اگر یہ کچھ پڑھے لکھے بھی ہوں تو اس کے باوجود ان پڑھ جیسے ہوتے ہیں۔

جدھر کی ہوا چلے یہ بھی ادھر کا رخ کر لیتے ہیں۔تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو اجتماعی شعور کو پروان نہیں چڑھنے دیتے اور معاشرے کے امن وسکون کو تہ وبالا کرتے ہیں۔ اگر معاشرے میں امن وامان قائم ہو جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہی نکلے گا کہ سوسائٹی کا پہیہ حرکت میں آئے گا۔ جس کے باعث لوگوں کو اپنے مسائل سلجھانے کیلئے غور وفکر کا موقع ملے گا، باہمی تعلقات کو فروغ ملے گا، افہام وتفہیم کے دروازے کھلیں گے۔ تعلیم عام ہوگی، ذہنوں سے زنگ اُتریں گے، یہ سب کچھ ہونے سے بعض لوگوں کے مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔چنانچہ مفاد پرست عناصر اپنے انفرادی یا گروہی مفادات کیلئے معاشرتی امن وسکون کو تہ وبالا کرنے کیلئے کمر کس لیتے ہیں۔

جس طرح دانشمند اجتماعی شعور کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح یہ مفاد پرست تخریبی گروہ اجتماعی شعور کو جڑوں سے اکھاڑنے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں.
ہم اجتماعی شعور پر بات کرینگے کہ یہ کیا چیز ہے. اور اس سے قومیں اور ادارے کیسے بنتے ہیں

ہمارا اجتماعی شعور ترقی یافتہ سماجوں یا قوموں کے اجتماعی شعور سے پیچھے ہے. اجتماعی شعور کسی قوم کے افراد اور گروہوں کی بلاتفریق صنف ، رنگ و نسل، مذہب اور زبان سماج میں اکٹھے رہنے اور آگے بڑھنے کی خواہش ہوتی ہے ۔ جب افراد کا ایک گروہ زندگی گزارنے کے کچھ قواعد پر باہم اتفاق کر لے اور انہی مشترک اقدار کی بنا پر اکٹھے رہنا شروع کر دے تواُن کی ان مشترکہ اقدار کو ان کا اجتماعی شعور کہا جائے گا۔ یہ سماج اور اس کے افراد کے درمیان ایک غیر تحریری معاہدہ ہوتا ہے.

لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم فرد کو نہی بلکہ اداروں کو مضبوط کریں. لیکن بد قسمتی سے آج یہاں فرد اداروں کے نسبت ذیادہ مضبوط ہیں. براہ کرم نابالغ سیاست کے بجائے بالغ سیاست کو فروغ دیں اور خوشاٹر کے جال سے باہر نکلنے کی کوشش کریں. سمجھنےوالے سمجھ گئے ہونگے.
تحریر و تجزیہ

صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں