پاکستان پر بیرونی قرضوں کا بوجھ ریکارڈ سطح کو چھونے لگا

بیرونی قرضہ اور ملکی ترقی کے خواب.

پاکستان پر بیرونی قرضوں کا بوجھ ریکارڈ سطح کو چھونے لگا. بیرونی قرضے 95 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ۔ملک کو قرضوں کے جال سے نکلانے کے بلند و بالا دعوے تو بہت کئے گئے ، کشکول توڑنے کے باتیں بھی خوب کی گئیں مگر حقیت تو اس کے برعکس ہی رہے.
یاد رہے کہ پاکستان میں قرضوں سے متعلق قانون سازی کے مطابق ملک کا مجموعی قرضہ خام ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے 60 فیصد سے تجاوز نہیں کر سکتا ہے۔
اب جتنا بھی ہے لیکن اسکو حتم تو کرنا ہوگا. مقروض قوم یا لوگ کبھی بھی سر اٹھاکر نہی جی سکتی. ہمیں ضرور اس کفیت کو سمجھنا چاہئے. اس وقت ہمیں اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے. جن لوگوں نے اس ملک کا پیسہ لوٹا ہے اور باہر بینکوں میں رکھا ہے تو ہمیں ان کا بائیکاٹ اس وقت تک کرنا چاہئے جب تک وہ لوٹا ہوا مال واپس نہ کردے. لیکن یہاں تو گنگا اُلٹی بہتی ہے. ہم انکو شرمندہ کرنے کے بجائے ڈیفنڈ کرتے ہیں. خیرانگی یہ ہے کہ جس ادمی کی اولاد باہر, پیسہ و کاروبار باہر, علاج باہر وغیرہ وغیرہ. لیکن حقِ حکمرانی یہاں. یہ کیوں??? ناجائیز دولت کمانے کے حاطر ہماری اولادوں کو اندھیرے میں دھکیلنا جائیز ہے کیا? میرے ہم وطنوں ہمیں کب عقل آئیگی. لوگ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں کا احتساب بھی ہونا چاہئے. تو کس نے منع کیا ہے. کرے سب کا احتساب کرے. 5 سکیل کا ملازم کروڑ پتی کیسے بنتا ہے. کوئی ہمیں بھی یہ گُر سیکھائے. کیا ہم اپنے وطن سے اتنی مخبت بھی نہی کرسکتے کہ جنھوں نے ملک کو لوٹا ہے ان سے کم از کم دل میں نفرت تو کریں. خود وزیراعظم بننے کے حاطر ملک کو گروی رکھنے کے لیے تیار ہیں (بحوالہ وکی لیکس). کیا تاریخ ہمیں معاف کریگی? کیا ہم سچے پاکستانی کہلانے کے قابل ہیں?
آؤ ملکر عہد کریں کہ ملک دشمن کو غزت اور پناہ نہی دینگے.
تحریر و تجزیہ
صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبر پختونخواہ

اپنا تبصرہ بھیجیں