375

میں کشکول توڑنا چاہتا ہوں

ایک زمانہ تھا کہ ایک انٹرنیشنل اور سندیافتہ قومی چور کہتا تھا کہ میں کشکول تھوڑنا چاہتا ہوں. اور اپنی قوم کو آئی ایم ایف کے چنگل سے آذاد کرواکر دم لونگا. ملک میں خوشخالی آئیگی. ظاہر بات ہے مقروض قوم کیا خوشخال ہوگی. اور اسطرح ایک ملکی مہم شروع ہوگئی کہ قرض اتارو اور ملک سنوارو کا نغرہ بجنا شروع ہوگیا اور لوگوں بڑھ چھڑ کر مدد کی اور اس امید سے کہ ہماری آنے والی نسلوں کو قرض کی لعنت سے چھٹکارہ مل جائیگا. لیکن صد افسوس ہوا جب اسد عمر صاحب کی یہ ٹوئیٹ پڑھی تو پتہ چلا کہ یہ کم ہونے کے بجائے بھڑتی جارہی ہے اور پتہ نہیں کہ انکے ہوتے ہوئے اور کتنی بھرےگی. ” ‏2013 میں جب یہ حکومت بنی تو اس وقت تک 66 سال میں پاکستان کے بیرونی قرضے 61 ارب ڈالر تھے یعنی ایک سال میں ایک ارب ڈالر سے کم کا اضافہ۔ پچھلے 6 ماہ میں بیرونی قرض میں 6 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ جتنا قرض سال میں نہیں بڑھتا تھا اتنا اب ایک ماہ میں بڑھ دہا ہے۔ اچھا کشکول توڑا ہے!” اگر حقیقت میں کچکول تھوڑنا چاہتے ہو تو عمران صاحب کا ساتھ دو اور متوسط طبقے کو اگے لاؤ جو اپکے مسائل کو بہتر طریقے سے جانتا ہے. تحریر صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی کلپانی بونیر خیبرپختونخواہ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں