366

جب کوئی کسی کو پسند کرتا ہے تو اس کی ہر غلطی کو معاف کرتا ہے

انسانی فطرت ہے جب کوئی کسی کو پسند کرتا ہے تو اسکی ہر غلطی کو معاف کرتا ہے اور ہر بُرے کام کو اچھا کہتا ہے. یہاں تک کہ اسکے ماضی کے ہر کمزوری کو بالکل بھلاکر آبِ زم زم سے نہلا دُھلاکر پیش کرتا ہے. پھر وہ فرشتہ صفت انسان, رحم دل, اچھا, ملنسار, نیک وغیرہ وغیرہ بن جاتا ہے. اور جب کسی کو ناپسند کرنا شروع کردیتے ہیں تو اسکی ساری خوبیوں کو بھلاکر خامیوں کو ہر مجلس میں موضوع سُخن بناتے ہوئے بڑھ چڑھ کر بیان کرتے رہتے ہیں. پھر وہ ڈاکو, چور, زانی, شرابی, خرامی پتہ نہی کیا کیا ہوتا ہے. اسی طرح ہم سیاست کے میدان میں ایسا کرتے ہیں. کبھی کسی کو اسمان پر چڑھا دیتے ہیں اور کبھی کسی کو پاتال تک لے جاتے ہیں. کبھی ہم نے سوچھا ہے کہ ہمارے سوچ کا معیار کیا ہے. بُرے اور اچھے کا پیمانہ کیا ہے. کیا بُرا اور کیا اچھا. مثلاً کل ایک آدمی اپنی پُرانی پارٹی میں چور اور ڈاکو کے نام سے مشہور تھا. آج وہ دوسری پارٹی میں امانت گر کیسے بنے گا. ایک دوسری مثال کہ کل ایک ادمی سودخور تھا اور سودی کاروبار کا نامی گرامی مہرہ تھا. اور سب لوگ اسکو بخوبی جانتے تھے تو اج وہ کیسے انسان دوست ہوگیا اور لوگوں سے یہ امید لگا بیٹھا ہے کہ یہ مجھے ووٹ دیکر کامیاب کرائینگے. خیر بات لمبی ہوگئی ہے. مقصود یہ ہے کہ حقیقت پسندی بھی کوئی چیز ہوتی ہے. اگر کسی کی خامیاں بیان کرنا چاہتے ہو تو اسکے ساتھ ساتھ اسکی خوبیاں بھی بیان کردیا کریں. اور فیصلہ جب بھی کرنا ہو تو اسکے ماضی کو ضرور یاد رکھا کریں. کیونکہ سیاست میں قدم رکھنے والا ہر شخص ووٹر کا مختاج ہوتا ہے. ووٹر کسی کو کامیاب کرانے کے بعد کہتا ہے کہ حُکومت ٹھیک نہی ہے. حُکومت کیسے ٹھیک ہوگی جب آپ صیح ادمی کو منتخب نہی کرتے. براہ کرم پاکستان اپکا ہے اور پر حُکومت کرنے والوں کو منتخب کرنے کا احتیار اپکے پاس ہے. اپنا مقام پہچانو. پڑھے لکھے اور انسان دوست لوگوں کو منتخب کریں. ہاتھی کے دانت کھانے کے اور. دکھانے کے اور. تحریر صوبیدار میجر (ر) بختروم شاہ تمغہ خدمت عسکری. سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبرپختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں