375

اقتدار کے بھوکے لوگ عوام کو تقسیم کرتے ہیں

اپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ اقتدار کے بھوکے لوگ عوام کو یعنی ووٹرز کو تقسیم کرتے ہیں. جب تک یہ تقسیم نہ کر دے تو یہ لوگ اس کُرسی کو حاصل نہی کرسکتے جہاں سے ہمیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنیں کے لیے اخکامات صادر فرمائے جاتے ہیں. ہر انسان کا زندگی گزارنے کا علیحدہ علیحدہ مشن ہوتا ہے کوئی خدمت کرتا ہے اور کوئی ماردھاڑ. خدمت والوں کا بھی کچھ عرصہ بعد پتہ چل جاتاہے اور ماردھاڑ والوں کا بھی لیکن قیمتی وقت تجربات میں گزر جاتا ہے اور آخرکار 2018 آجاتا ہے اور قوم وہیں کے وہیں کھڑی ہوتی ہے. گوکہ ملک میں کافی ترقی ہوئی ہے. لیکن دوسرے ممالک سے بہت ہی کم (پاکستان 1947بمقابلہ چین1949). ہم بھی دنیا کے دوسری قوموں کی طرح ٹیلنٹد قوم ہیں. لیکن سیاست میں ناکام. کیونکہ ہمیں آج تک یہ پتہ نہی کہ ملک میں تبدیلی بیلٹ سے آتی یا بُلٹ سے. یقیناً بیلٹ سے. جب بیلٹ والے ہی قوم کو دھوکہ دے دے تو پھر کیا ہوسکتا ہے. یہ کام سب سے پہلے نچلی سطح سے شروع ہوتا ہے. ہر آدمی دوسرے کو بیوقوف بنانے کے چکر میں ہے. کل مجھے میرے پارٹی کا ایک دوست بتا رہا تھا کہ صوبیدار میجر صاحب اپ پنے تحاریر سے کارکنوں کو ورغلا رہے ہیں. میں نے موصوف کو جواب دیا کہ جمھوریت میں اکائی کارکن کو کہتے ہیں جس دن کارکن میں شعور آگیا تو پھر اپ جیسے لوگ سیاست سے باہر ہوجاؤگے. اللہ کرے یہ دن آجائے اور کھرے کھوٹے کا پتہ چل جائے. شعور کیا ہے یہ بیلٹ کا صیح استعمال ہے. آؤ ملکر عمران خان کا ہاتھ تھامیں اور وزیراعظم کا تاج اسکے سر پر سجائیں. لیکن کالی بیھڑوں کو صفوں سے نکالنا ہوگا. آج کا کارکن 1962 کے کارکن سے ہزارہا درجہ سمجھدار ہے لیکن دوسری طرف انکے ساتھ کھیلنے والا سیاستدان بھی ہزار ہا درجہ مکار ار دھوکباز بن گیا ہے. لہذا کھر ےاور کھوٹے کا فرق بیلٹ سے کریں. تحریر صوبیدار میجر (ر) بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری. سیاسی و سماجی کارکن پی ٹی آئی کلپانی بونیر خیبرپختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں