368

مہذب تعلیم یافتہ اور غیرت مند اقوام

مہذب, تعلیمیافتہ اور غیرتمند اقوام کا فرد جب بھی کوئی غلط کام کرتا/کرتی ہے تو فوراً غلطی کا اغتراف کرکے معافی مانگ لیتا /لیتی ہے. اگر قومی نمائیندگی کرتے ہوں تواپنے عہدہ سے مستعفی ہوجاتے ہیں. اور اُنکو اپنی بقایا پوری زندگی میں اس غلطی کا احساس ہوتا ہے کہ ہم نے کبھی کوئی غلطی کی تھی. کاش ہمارے معاشرے میں بھی اس قسم کی روایت پیدا ہوجائے. یہاں تو ہر روز غلطیاں سرزد ہوتی ہیں لیکن کسی کے یہ جرت نہی کہ یہ کہ دے غلطی ہوگئی ہے. ملزم اور مجرم میں فرق ہوتا ہے. میرے خیال سے ملزم کو جرم ثابت ہونے سے پہلےاپنے عہدہ سے اس وقت تک دور ہوجانا چاہیئے جب تک کیس کا فیصلہ نہی ہوجاتا. یہاں تو سپریم کورٹ سے باقاعدہ مجرم ثابت ہونے کے باوجود عوام سے سوال کرتے پھرتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا.
لیکن سُلجھی ہوئی قومیں ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے لئے ناجائز الزامات کی بوچھاڑ بھی نہی کرتی. ایسی قومیں جرم ثابت نہ ہونے پر ہرجانہ کا دعوۃ بھی دائر کردیتی ہے. اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی علیںحدہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے.
افسوس کا مقام ہے کہ ہم سب کچھ ہیں یعنی تعلیمیافتہ ڈاکڑز, انجینئرز, اساتذہ, مولوی, مبلّغ, سائنسدان, جج, مخافظ, پارلیمنٹرینز, خدمتگار وغیرہ وغیرہ لیکن سلجھے ہوئے انسان اور مسلمان نہی.
جس دن ہم انسان بن گئے تو سب کچھ بن جائینگیں.

تحریر
صوبیدار میجر ریٹائرڈ بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سماجی و سیاسی کارکن بونیر خیبر پختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں