368

مہذب قوموں کا لہجہ کیسا ہوتا ہے؟

مہذب قومیں ہمیشہ کے لیے نرم لہجہ استعمال کرتی ہیں. پہلے تو اختلاف ہوتا نہی ہے. کیونکہ وہ ہربات میں انسانیت, ملکی سلامتی اور وسیع تر قومی مفاد کی بات کرتے ہیں. ملکی مفاد پر مہذب اور تعلیمتافتہ قومیں کھبی بھی کمپرومائیز نہی کرتی. اگر کوئی بات ہو بھی جائے تو اسکا حل متعلقہ ادارے پر چھوڑ دیتے ہیں. یہاں پر تو کسی کی زبان کنٹرول ہی نہی ہوتی. چاہیے وزیراغظم پاکستان کو گالی دے, چیف جسٹس اف پاکستان یا ارمی چیف کو دے. کسی پر کوئی پابندی نہی. کوئی اخلاقی معیار نہی. کوئی ڈسپلن نہی. اخلاقیات کا معیار یہ ہے کہ ایسے ایسے بیہودہ تصاویر کو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتے ہیں کہ جسکو دیکھکر انسانی سر شرم سے جھک جانے کو دل کرتا ہے. جھک جانے کے جگہ میں یہ بھی لکھ سکتا تھا کہ شرم سے سر جھک جاتا ہے. ویسے تو اگر جھک جائے پھر تو ہم مہذب قوم کہلانا ٹھرینگے. ہماری اس معیار کی پرورش کہاں?. کہاں گئے ادارے. کہاں گیا قانون. ان لوگوں کو اگر سائیبر کرائم کے زریغے پکڑاجائے تو کسی دوسرے کی جراءت ہی نہی کہ وہ کوئی سوشل میڈیا پر کسی مغزز افسران یا سربراہان مملکت کے لیے کوئی نازیبہ زبان استعمال کرے. یہ ملک ہمارہ ہے یہ ادارے بھی ہمارے ہیں. ہر سوال ہر آدمی نہی کرسکتا. نہ ہر ادمی کو جواب دیا جاسکتا ہے. سوال وجواب کے لیے ادارے ہوتے ہیں. عام ادمی اپنا نمائندہ انتخابات کے زریغے پارلیمنٹ میں بیجھتا ہے. اگر یہ تعلیمیافتہ اور جراتمند ہوگا تو اداروں سے پوچھےگا. اگر وہ خود چور اور ڈاکو ہوگا تو وہ کیا قانون اور ضابطہ اخلاق بنائےگا. نااہل ہوکر باہر نکال دیا جائےگا. اور وہ پھر گلی گلی گھومتا رہےگا کہ مجھے کیوں نکالا. اب ہم کو کیا معلوم کہ تجھے کیوں نکالا. اپنے کرتوت ٹھیک رکھتے تو کیوں نکالتے. 2018 میں ایسے جراءتمند لوگوں کو پارلیمنٹ میں بیھجو جو اپکے حقوق اور اپنے ملکی حقوق کے لیے اواز بلند کرسکے. ضمیروں کے سوداگروں کو ووٹ نہی دینا. سب لوگ باری باری ازمائے گئیے ہیں لیکن ایک رہتا ہے. جسکانام عمران خان ہے. اگر یہ بھی ناکام رہا تو پھر کچھ اور ہی سوچھیں گیں.
تحریر
صوبیدار میجر ریٹائرڈ
بخت روم شاہ تمغہ خدمت عسکری
سماجی و سیاسی کارکن پی ٹی آئی بونیر خیبرپختونخواہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں